
السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آپ کی صحت اور تندرستی کے لیے دعاگوہیں!
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، استحکام، خودمختاری اور عالمی قیادت کی بنیاد ہوتی ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے علم، تحقیق، سائنس اور معیاری تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا، آج وہی دنیا کی ترقی یافتہ اور بااثر اقوام میں شمار ہوتی ہیں۔
قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1947 کی نیشنل ایجوکیشن کانفرنس میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ 1948 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں، علم اور تعلیمی ترقی کو پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد قرار دیا۔
بدقسمتی سے آج پاکستان کا تعلیمی نظام اپنی تاریخ کے شدید ترین بحرانوں میں سے ایک سے گزر رہا ہے۔ ملک میں اس وقت ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں تقریباً ایک کروڑ پنجاب، چوہتر لاکھ سندھ، پچاس لاکھ خیبر پختونخوا اور چوبیس لاکھ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-A کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی مستقبل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔
ملک میں طبقاتی نظامِ تعلیم رائج ہے، جہاں مختلف طبقات کے لیے مختلف تعلیمی نظام موجود ہیں۔ کہیں انگلش میڈیم، کہیں اردو میڈیم، کہیں دینی مدارس، کہیں کیمبرج سسٹم اور کہیں الگ نصاب رائج ہے۔ اس تقسیم نے ایک متحد قوم کے بجائے مختلف ذہنیتوں اور طبقات کو جنم دیا ہے، جو قومی یکجہتی اور فکری ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔
تعلیم کی مسلسل نجکاری نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے تعلیم کا حصول تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ ایک مزدور کی اوسط ماہانہ آمدن تقریباً چالیس ہزار روپے ہے، جبکہ سرکاری جامعات کی اوسط سمسٹر فیس پچاس سے ساٹھ ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔
تعلیم پر حکومتی اخراجات بھی انتہائی ناکافی ہیں۔ پاکستان اس وقت اپنی GDP کا تقریباً 0.8 فیصد تعلیم پر خرچ کر رہا ہے، جو دنیا کی کم ترین شرحوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ بھی 2017-18 کے بعد خاطر خواہ نہیں بڑھایا گیا، حالانکہ اس دوران جامعات، طلبہ کی تعداد، مہنگائی اور تعلیمی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ نتیجتاً ملک کی بیشتر جامعات شدید مالی خسارے کا شکار ہیں، جبکہ اساتذہ اور پروفیسرز، جن کی بنیادی ذمہ داری تدریس، تحقیق اور نوجوان نسل کی علمی تربیت ہے، آج اپنے جائز حقوق اور تنخواہوں کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں۔ یوں جامعات میں تحقیق اور علمی سرگرمیوں کے بجائے آئے روز احتجاج، بے چینی اور انتظامی بحران کا ماحول جنم لے رہا ہے۔
اس وقت دنیا کی ٹاپ 300 جامعات میں پاکستان کی کوئی جامعہ شامل نہیں، جو ہمارے تعلیمی، تحقیقی اور علمی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔
سمسٹر سسٹم بھی طلبہ و طالبات کے لیے شدید ذہنی دباؤ، Academic Stress اور غیر متوازن اختیارات کا باعث بن چکا ہے۔ ایک ہی استاد تدریس، پیپر بنانے، امتحان لینے اور مارکنگ کے مکمل اختیارات رکھتا ہے، جو انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس نظام میں تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن، اساتذہ کی جوابدہی اور شفاف نگرانی کی ضرورت ہے۔
جامعات اور کالجز میں طلبہ سے غیر قانونی Affidavits لیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے ان کے آئینی، جمہوری اور اظہارِ رائے کے حقوق محدود کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں انہی حلف ناموں کو طلبہ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
طلبہ یونینز پر پابندی کے باعث جامعات میں جمہوری ماحول کمزور ہوا، طلبہ کی نمائندگی ختم ہوئی، جبکہ منشیات، ہراسانی، تشدد اور غیر جمہوری رویوں میں اضافہ ہوا۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، حتیٰ کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی طلبہ یونینز موجود ہیں، تو پاکستان میں طلبہ کو اس بنیادی جمہوری حق سے کیوں محروم رکھا گیا ہے؟
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ:
1. ملک میں فوری طور پر تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے Out-of-School Children کے مسئلے کے حل کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں۔
2. تعلیم پر قومی GDP کا کم از کم 4 فیصد خرچ کیا جائے۔
3. سرکاری جامعات کی فیسوں میں کمی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو کم از کم 200 ارب روپے سالانہ بجٹ فراہم کیا جائے۔
4. طلبہ یونینز کو بحال کر کے طلبہ کو جمہوری تربیت اور نمائندگی کا حق دیا جائے۔
5. سمسٹر سسٹم میں تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن، شفافیت اور اساتذہ کی جوابدہی کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے۔
6. پاکستان میں طبقاتی نظامِ تعلیم کے خاتمے کے لیے یکساں نظامِ تعلیم نافذ کیا جائے تاکہ تمام طبقات کے لیے مساوی تعلیمی مواقع اور قومی یکجہتی کو فروغ مل سکے۔
7. تعلیمی اداروں میں لسانیت، نفرت اور تقسیم کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور قومی یکجہتی، برداشت اور آئینی اقدار کو فروغ دیا جائے۔
پاکستان کا مستقبل تعلیم سے وابستہ ہے۔ اگر آج بھی تعلیم کو قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو آنے والی نسلیں شدید تعلیمی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہوں گی۔
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان امید کرتی ہے کہ حکومت اور تمام متعلقہ ادارے اس قومی مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری، مؤثر اور دیرپا اقدامات کریں گے۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان ملک میں تعلیمی نظام کی بہتری، طلبہ مسائل کے حل اور قومی تعلیمی اصلاحات کے لیے ہر مثبت اور سنجیدہ کوشش میں اپنا بھرپور فکری و عملی تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
والسلام
صاحبزادہ وسیم حیدر
ناظمِ اعلیٰ، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان