٢٣ دسمبر کا دن دنیا بھر میں پھیلے جمعیت کے وابستگان کے لئے ایک مبارک سعید، خوشی و تہوار کا دن ہے، نوید انور

23 دسمبر کا دن دنیا بھر میں پھیلے جمعیت کے وابستگان کے لئے ایک مبارک سعید، خوشی و تہوار کا دن ہے
جس کی سب کو بہت بہت مبارک ہو.
تو جئے ہزاروں سال.   یہ میری ہے آرزو

اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان بلاشبہ نظریاتی کردار کی نشوونما اور آبیاری کا بہترین آفاقی منصوبہ ہے. اس کو سید مودودی (رح) کا کامیاب تجربہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا. اس نے ہر طرح کے فرد کو متاثر کیا اسکی صلاحیت کے مطابق نظریاتی تربیت کی، ایک نظام محبت و اپنائیت میں سمویا، ، محدود صلاحیتوں کو جلا بخشی اجتماعی زندگی کے رموز و اسرار سے آگاہی دی تنظیم سکھا کر تنظیمی امور و انتظام حوالے کئے، بڑے دائرے میں نفوذ و سرائیت کے قابل کیا اور پھر یہ تیار فرد معاشرہ کو سونپ دیا.
یہاں یاد رہے کہ جمعیت کی یہ چھوٹی سی طالبعلمی کی دنیا اپنی مدد آپ کے اصول پر کام کرتی ہے یہ بڑا ہی دلچسپ عجیب و غریب اور اپنی نوعیت کا منفرد خودکار نظام ہے. جس کی دنیا میں کوئی اور مثال نہیں اور اس نظام کی درست انداز سے تشہیر اور سمجھ آج کی دنیا کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتی ہے. اور بہت سی پیچیدگیوں و امراض کا علاج بھی. یعنی جمعیت انہی افراد جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے، سے ہی اپنے اس خودکار مگر انمول نظام چلانے کا ایندھن کشید کرتی ہے گویا یہ اپنے بل پہ قائم ایک ایسا نظام ہے جس کا ایندھن بھی وہی ہے جو اس کی فائنل پراڈکٹ ہے. یہی وجہ ہے کہ آج 74واں یوم تاسیس منانے والی جمعیت کی ٹیم بھی اسی طرح ترو تازہ توانا اور مطمعئن ہے جس طرح اس کی بنیاد رکھنے والے چند سعد نفوس جو پھول بلڈنگ لاہور 23 دسمبر 1947 کو جمع ہوئے تھے. وقت نے اس کے جذبے و اخلاص کو مہمیز دیا ہے. اسکی خوشبو آج بھی لاکھوں کو مسحور کر دیتی ہے اور سچ پوچھیں تو یہی ایک متفق علیہ بنیاد ہے خوبصورت یادوں اور مضبوط رشتوں کی

یہاں تک تو بات ٹھیک تھی کہ یہ ایک ایسا نظام یے جو یوں چلتا ہے اور حیران کن نتائج پیدا کرتا ہے لیکن جب فرد کو معاشرہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے تو اس کہانی میں ایک ایسا موڑ آ جاتا ہے جس پر بہت کم لکھا اور سوچا گیا ہے
یہ وہ حساس مقام ہے جہاں سے جمعیت کا کام ختم اور معاشرہ کا شروع ہوتا ہے عجیب بات ہے کہ معاشرہ نے اس کردار کو پسند بھی کیا اور سراہا بھی مگر اپنایا نہیں. معاشرہ اپناتا بھی تو کیسے اپناتا کہ معاشرہ منفی اقدار و روایات کا اس قدر عادی ہو چکا تھا کہ اس نے تعلیمی اداروں میں فروغ پانے والے نظم و ضبط کے حامل پڑھے لکھے سلجھے نوجوانوں کو نہ صرف نظر انداز کر دیا بلکہ اپنی نااھل اشرافیہ کی بگڑی اولاد کو قیادت کے منصب پر فائز بھی کر کے قوم کے سروں پہ مسلط کردیا . یہ پاکستانی معاشرہ کا وہ متضاد و منفی رویہ ہے جس کو باقاعدہ موضوع بحث بننا چاھئے. اس خود غرضانہ منفی روئے نے کھربوں روپے مالیت کا فائدہ دینے کے قابل تیار نظریاتی پالیسی ساز ضائع کردئے اور یوں تمہاری داستاں نہ ہو گی داستانوں میں کی مصداق ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی راہ پر گامزن ہوگیا

جمعیت کے شاندار ماضی حال اور مستقبل کا زندہ حوالہ یہ آج کا دن اہم دن تو ہے ہی ساتھ یہ بھولا سبق کھوجنے کا دن بھی ہے.
ائیے
آج کے دن ذرا آگے بڑھ اس کھوج کو بھی زیر بحث لائیں.
جس نے معاشرہ اور تربیت یافتہ افراد کو ملنے نہ دیا. آفاق کی بلندیوں کو چھونے والے افراد کو پھر سے ذات برادری، کنبہ اور روٹی کپڑا مکان کی تنگ راہوں کا راہی بنا دیا. سید مودودی سے عقیدت کا دم بھرنے والے اتنے سمجھدار تو ہوئے کہ دنیا کی ہر راحت گھر خرید لائے اور اگر نہ کر سکے تو اس خلیج کا کچھ علاج نہ سوچ سکے جو ملک و قوم کو گھن کی طرح کھا گئی. افسوس کہ ہم سب بنے بس وہی نہ بن سکے جو مقصود مرشد تھا جمعیت کا سبق تو نظریاتی آہنگ لئے بادشاہ بننے یا بادشاہ گر بننے کا سبق تھا.ہم بادشاہ تو کیا بنتے مینیجر بن کے رہ گئے، بادشاہ گر تو تب بنتے جب ذاتی پسند و ناپسند کی خود غرض سوچ سے باہر آتے. آزاد پالیسیاں تو کیا بناتے عالمی استعماری پالیسی کے کیسہ لیس بن گئے. عوام الناس کو خودکفیل تو کیا بناتے، روٹیاں ٹوپیاں آٹا دالیں کتابیں بانٹتی تصویریں کہاں لے جاتے. آج کا دن سید مودودی سے محض عقیدت ہی کا نہیں ان کی سوچ اپنانے کا بھی دن ہے.
یاد رکھیں جب تک اس بات کا فیصلہ نہ ہو کہ یہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے؟

وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے

پاکستان زندہ باد
جمعیت پائیندہ باد

نوید انور

سابق ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان

By | 2020-12-22T23:58:15+00:00 December 22nd, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment