یٰۤاَایُّھا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا (القرآن ) اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے 68 واں سالانہ اجتماع ارکان کا انعقاد ہونے جارہا ہے, جمشید منیر

یٰۤاَایُّھا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا (القرآن )
لاہور سے گجرات کی طرف محو سفر ہیں۔
یوں تو اس وقت کراچی تا کشمیر،گوادر تا گلگت بلتستان،سمندر اور صحرائیوں کی زمینوں سے پرعزم جوان جذبوں کے قافلے گجرات کی طرف گامزن ہیں کیوں کہ اس سال گجرات کی سرزمین پہ
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے 68 واں سالانہ اجتماع ارکان کا انعقاد ہونے جارہا ہے حسبِ روایت اور حسب دستور اس سال بھی سہ روزہ اجتماع کا انعقاد فروری میں ہونے جا رہا ہے۔
اس اجتماع کا بنیادی مقصد کل پاکستان سطح پر نئی قیادت کا انتخاب ہوتا ہے۔ جس میں پاکستان بھر سے جمعیت کے اراکین شریک ہوتے ہیں۔ انتخاب خفیہ رائے دہی کے زریعے سے ہوتا ہے جس کے زریعے ناظم اعلٰی کا انتخاب ہوتا ہے۔ جمعیت کے انتخابی عمل کی انفرادیت ہے کہ اس کے عہدوں کے لیے نا کوئی امیدوار ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی طلبگار ، نہ کوئی کمپین ہوتی ہے اور نہ ہی کنونسنگ بلکہ کل پاکستان اراکین جمعیت سے کوئی بھی رکن کثرت رائے سے اس منصب پر فائز کیا جاسکتا ہے۔
انتخاب میں کردار، سیرت، تقویٰ اور صلاحیتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جمعیت کے مرکزی سطح کی قیادت سے لیکر تمام زیلی قیادت کردار کے اعلی مرتبے پر ہوتی ہے اور جمعیت کی یہ قابلِ فخر روایت ہے کہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ کے انتخاب سے لے کر ایک چھوٹے سے حلقے یا تعلیمی ادارے کی قیادت کا انتخاب یا تقرری میں سب کی رائے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ جمعیت کے مقابلے میں دوسری طلبہ تنظیمیں بھی موجود ہے لیکن ان کے اندر کسی بھی سطح پر انتخابات کا رواج نہیں پایا جاتا، پاکستان کے طلبہ کی سب سے بڑی واحد نمائندہ اسلامی جمہوری تنظیم ہونے کا اعزاز جمعیت ہی کو حاصل ہے۔
تین روزہ اس اجتماع میں انتخاب کے علاوہ بھی کئی سرگرمیاں ہوتی ہیں،
انتخاب کا یہ عمل دو روز جاری رہتا ہے، نئے ناظم اعلیٰ کا اعلان دوسرے دن کا اجتماع ارکان میں کیا جاتا ہے، پہلے روز ملک بھر کے چاروں صوبوں کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام مقامات و ڈویژن کے ناظمین کی طرف سے پچھلے سال کی جائزہ رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ جس میں سامعین بڑی دلچسپی لیتے ہیں۔ ناظمین کو داد دیتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سوال و جواب کا سیشن ہوتا ہے، مختلف موضوعات پر تقاریر ہوتی ہیں۔ ترانے پیش کیے جاتے ہیں جمعیت نعروں کے حوالے سے بھی خاصی مقبولیت رکھتی ہے، لہو گرما دینے والی نعرے بازی بھی ہوتی ہے۔ کھانوں کا دور ہوتا ہے۔ مختلف سٹالز سجائےجاتےہیں۔سب سے زیادہ رش ادارہ مطبوعات طلبہ کے اسٹالز پر ہوتا ہے جہاں تحائف کا تبادلہ تینوں دن جاری رہتا ہے۔ایک علم دوست تنظیم ہونے کی وجہ سے تحائف کا سب سے زیادہ تبادلہ کتابوں کی صورت میں ہوتا ہے، سیشن میں بننے والے نئے اراکین جمعیت سب سے زیادہ تحائف جمع کرتے نظر آتے ہیں۔
دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق سوشل میڈیا ڈیسک لگایا جاتا ہے، جہاں سے اندرون اور بیرون ملک ہزاروں سابقین جمعیت بھی اس اجتماع سے منسلک رہتے ہیں۔
آخری دن نو منتخب ناظم اعلیٰ کا اعلان ہوتا ہے، یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جس کا ہر رکن کو انتظار ہوتا ہے کہ کون اس عظیم قافلے کا سالار منتخب ہوگا۔ اس طرح نو منتخب ناظم اعلیٰ “میری نماز میری قربانی میرا مرنا اور میرا جینا سب اللہ کے لیے ہیں” کا حلف ادا کرتے ہیں۔اور یوں قیادت کی منتقلی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس کے بعد ملک کے تمام حصوں کی قیادت مرحلہ وار منتقل ہوجاتی ہے۔
اس اجتماع کی خوبصورتی کا ایک پہلو آپ کے سامنے پیش کیے دیتا ہوں۔ وہ یہ کہ اس اجتماع کے اندر پاکستان کے ہر گوشے سے آئے ہوئے نوجوان للہ خلوص و محبت کے رشتے میں جڑے ہوتے ہیں۔ یہاں کسی قسم کی لسانی و علاقائی تفرق سے پاک ماحول میسر ہوتا ہے۔ یہاں کی دوستیاں خالص اللہ کی رضا کی خاطر ہوتی ہے جو زندگی بھر ساتھ رہتی ہیں ۔اس اجتماع کے زریعے ہمارے دلوں کا ایمان پختہ ہوتا ہے اور پھر ہم میں سے ہر کوئی ایک نئے ولولے اور ایک نئے جذبے کے ساتھ یہاں سے پر نم آنکھوں سے الوداع کہتے ہوئے ،ذہن کو خوبصورت یادوں کے ساتھ لیکر ا پنے شہروں اور علاقوں کی طرف رواں ہوجاتا ہے جہاں اسے اپنے رکنیت کے عہد کے ساتھ ایک نئے جزبے اور لگن کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے دعوت دین کے کام کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔
اسی اجتماع میں جہاں کئی نئے ہمسفر اس قافلے کا حصہ بنتے ہیں وہیں کئی اراکین دین مبین کی سرخوئی کی جدوجہد میں اپنے حصے کا فرض پورا کرکے جمعیت سے رخصت ہوجاتے ہیں۔بہت سی دعاوں اور پرنم آنکھوں سے انہیں رخصت کیا جاتا ہے۔
یہ سلسلہ کبھی نہیں رکتا وقت کی رفتار کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔رب تعالٰی ہم سب کو ابدی جنت میں جمع فرمائیں آمین
جمعیت مطلع صبحِ ایمان یے
رحمت مصطفٰی رب کا احسان ہے
ایک نعمت ہے قدرت کا انعام ہے
راہِ عزم و عمل صرف قرآن ہے
جمعیت مطلع صبحِ ایمان ہے
جمشید منیر

By | 2021-02-05T02:37:29+00:00 February 5th, 2021|articles|0 Comments

Leave A Comment