ہمیں قریب سے جانئے اپ کو اچھا لگےگا۔آفتاب حسین مجاہد

پیاری جمعیت کو74 واں یوم تاسیس مبارک۔
23 دسمبر 1947 کو لگایا گیا پودا اب تناور درخت بن چکا ہے ۔اسی شجر سایہ دار کے سائے تلے ہزاروں نوجوانوں کی جوانیاں محفوظ ہوئی اور جمعیت نے انہیں جینے کا سلیقہ سکھایا۔
پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدات کی محافظ جمعیت نے ہر مشکل وقت میں نظریہ پاکستان کی حفاظت کی۔کارکنان جمعیت نے ہر آن اس چمن کی آبیاری اپنے گرم خون سے کی ہے۔جب ملحد نظریات سے ہمارے تعلیمی اداروں کو سابقہ پیش آیا تھا تو میدان عمل میں جمعیت نے انہیں شکست و ریخت کی راہ دکھائی۔جمعیت نے ان کی نعرے کے مقابلے میں نعرہ تخلیق کیا۔دلیل کی ہتھیار سے ان کا مقابلہ کیا۔اسی طرح جب بھی پاکستان کی جغرافیائی سرحدات کو چیلنج کیا گیا چاہے وہ 9171 میں سانحہ سقوط ڈھاکہ میں جہاں پاکستان کی 90 ہزار تربیت یافتہ مسلح افواج نے اسلحہ ڈال کر نظریہ پاکستان کو دو لخت کیا ، تب اسلامی جمعیت طلبہ کے یہ شاہین صفت جوان میدان کارزار میں دشمن کے فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش نا منظور تحریک چلا رہے تھے جس کی بدولت تقریبا 10 ہزار کارکنان جمعیت نے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ دراصل اس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدات کی محافظ واحد جمعیت ہی ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ اس پر فتن دور میں جہاں ہر طرف مادیت،دہریت اور بے رہ روی کی گھٹاتوب اندھیرے چائے ہوئے ہیں جمعیت طلباء کیلئے کشتی نوح کا کردار نبھا رہی ہے جو کہ لائق تحسین ہے۔
طلباء کی سب سے بڑی اور منظم تنظیم جس میں ان 73 برسوں میں کہی جتھہ بندی نہیں ہوئی، کہی کنونسنگ نہیں ہوئی، ایسی منظم اور متحرک طلباء تنظیم جو بغیر کسی لالچ و دنیاوی طمع کے طلباء کو درپیش مسائل میں ان کی رہنمائی کرتی ہے۔
جمعیت کے پاس اپنا ایک بہترین تربیتی سسٹم موجود ہے جس کے زریعے جمعیت نے مملکت خداداد کو معیشت سے لیکر سیاست اور سیاست سے لیکر درس وتدریس اور صحافت تک یعنی ہر شعبے کو بہترین افرادی قوت فراہم کی ہے ۔
پیاری جمعیت نے دنیا کی رنگینیوں اور فریب سے نکال کر ایک بہترین اور بامقصد زندگی سے روشناس کروایا ۔
آفتاب حسین مجاہد

By | 2020-12-24T23:07:55+00:00 December 24th, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment