گلشن کے پھول اور کلیوں پر ایمان کا رنگ چڑھائیں گے! جمشید منیر

گلشن کے پھول اور کلیوں پر ایمان کا رنگ چڑھائیں گے!

آج سے سترہ سو سال پہلے ویلنٹائن نے اپنے کردار کی وجہ سے اپنا نام تاریخ کے سیاہ ابواب میں رقم کر لیا۔ تاریخی روایات کی بدولت یوں تو پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ ویلنٹائن برائی کا مرتکب ہوا تھا۔ جس کے نتیجے میں اسے پھانسی کی سزا دی گئی تھی لیکن نظریات کی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والی اقوام نے اس دن کو اپنے لیے ایک عالمی محبت کا دن قرار دیا۔ اور اس کی آڑ میں خطرناک برائی (بے حیائی) کا قومی سطح پر کا ارتکاب کرنے لگیں۔

ویلنٹائن تو تاریخ کا حصہ بن گیا جسے مٹایا نہیں جاسکتا۔ لیکن بعد میں اس کے نام سے منسوب پیھلائے گئے بےحیائی کے نظریے کو بدلا جاسکتا تھا۔ جو دوسری اقوام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے اندر بھی سرائیت کر گیا تھا ۔
ویلنٹائن کے بعد اس دن کو عالمی سطح پر “ویلینٹائن ڈے” یا “محبت کا دن” کے طور پر منایا جانے لگا۔ مسلمان بھی اس دن کو منانے لگیں۔ گو کہ مسلمانوں کے اندر اس برائی کو روکنے کے لیے دلائل احادیث و کتب کا ایک وسیع زخیرہ موجود ہے۔ لیکن مسلمانوں کو “محبت کے دن” کے دھوکے سے اس برائی کے کام شامل کر لیا گیا تھا۔ جو کسی صورت محبت سے منسوب نہ تھا اور نہ ہی اس دن کی تاریخ محبت کے خون سے لکھی گئی تھی۔ بلکہ 14 فروری کا دن تو برائی سے منسوب تھا۔ ایسے میں وہ قلوب و ازہان جو ہر وقت للہیت سے سرشار ہیں ۔مسلمانوں کے اندر اس بے حیائی کی روک تھام کے لیے اگے بڑھیں اور مسلمانوں کے لیے بے حیائی کے بدلے حیاء کے دن کی بنیاد رکھی ۔جو 14 فروری کو پورے پاکستان میں جوش و خروش کے ساتھ “حیاء ڈے” کے نام سے منائی جاتی ہے۔

برائی کسی بھی معاشرے میں کبھی بھی تہوار نہیں بن سکتی. یہ جلد یا بدیر اچھائی سے ہی مٹا دی جاتی ہے۔ پاکستان کی طلبہ کی واحد بڑی نمائندہ اسلامی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے نوجوانوں کو 14 فروری کی تاریخ سے آشنا کرواتی ہے۔اور ہرسال اس دن کو حیاء ڈے کے طور پر مناتی ہے۔
دنیا کی ٹیکنالوجی میں نیٹ مارکیٹ شیٹ میں سٹیٹسٹک( statistics) کے مطابق گوگل( Google) دنیا کے ٹاپ پانچ سرچ انجنز میں سے پہلا نمبر حاصل کرچکا ہے ۔ جو ہائی کوالٹی رزلٹ مہیا کرتا ہے۔ گوگل کے سرچ انجن میں آج ویلنٹائن ڈے کی جگہ حیاء ڈے کی سرچ ایک قابلِ قدر کارنامہ ہے۔ جو عالمی سطح کی سرچ ویب پر آسانی سے سرچ دے رہا ہے۔
نوجوانانِ اسلام ہو یا نوجوانانِ عالم، سب کے لیے یہ اعزاز اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے ہے ۔جس ملک کو اسلام کا قلعہ بنانے کی خاطر بہنیں مر مٹیں ہو، مائیں شہید ہوئیں ہو ، کئی نوجوان کٹ مرے ہو وہ ملک برائی کا دن منانے کا اہل نہیں ہوسکتا. حیاء ڈے پر تمام نوجوانوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اپنی تاریخ کو پاکیزہ محبت کے قلم سے لکھیے اس محبت سے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درس تھا وہ محبت حیا ہے ۔ اور یقیناً حقیقی محبت حیاء سے شروع ہوکر حیاء پر ختم ہوجاتی ہے ۔

افرنگ کے عریاں کلچر کا ابلاغ سے حملہ جاری ہے
اس دھرتی سے وحشت کا چلن دشت کا دور مٹائیں گے
تہذیب حیاء کے فرزندوں زندہ تہذیب ہماری ہے
جمشید منیر

By | 2021-02-14T01:48:22+00:00 February 14th, 2021|articles|0 Comments

Leave A Comment