میرے 73 سال، تحریر شہاب یوسف

میرے 73 سال

آج 23 دسمبر 2020 کو میرے 73 سال مکمل ہوگئے ہیں اور میں 74 ویں سال میں داخل ہوگئی ہوں ۔ آج سے ٹھیک 73 سال پہلے 23 دسمبر 1947 کو لاہور کے پھول بلڈنگ میں میری بنیاد رکھی گئی ۔ اس سے کچھ مہینے پہلے اس دھرتی ماں پر ایک عظیم جدوجہد کے نتیجے میں اسلام کا قلعہ مملکت پاکستان وجود میں آیا ۔اس مملکت پاکستان کا نظریہ وجود بھی بلکل وہی تھا جس کے ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے میرے بارے میں سوچا گیا ۔اور کون نہیں جانتا کہ وہ نظریہ اور کوئی نہیں بلکہ نظریہ اسلام ہے۔ نظریہ پاکستان کے بانی حضرت اقبال نے فرمایا تھا
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
اقبال  کے عاشق اور دور حاضر کے مجدد مولانا مودودی نے اقبال کے اسی شعر کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اقبال کے پاکستان سے 25 لوگوں کو جمع کیا اور میری بنیاد رکھی گئی ۔ میرا نام اسلامی جمعیت طلبہ رکھا گیا ۔ “اللّٰه اور اس کے رسول ص کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کے تعمیر کے زریعے رضاۓ الہی کا حصول” نصب العین قرار پایا ۔اور ظفر علی خان پہلے سربراہ یعنی ناظم اعلیٰ مقرر کیے گئے ۔
اس 73 سال میں بہت تکلیفات سے سامنا پیش آیا ۔طرح طرح کے مظالم مجھ پر ڈالے گئے ۔میری آواز کو دبانے کی کوششیں کی گئی ۔1971 میں مجھ سے میرا بازوں چھینا گیا ۔لیکن اللّٰه کی شان دیکھیں کے وہ بازوں اج ایک مکمّل جسم بن گیا ہے ۔ 1971 میں جب بھارتی فوج مکتی باہنی جیسے شر پسندوں کو اسلام پسندوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار کر رہا تھا اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے البدر کی صورت سروں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کا رستہ روکنے کی کوشش کی۔ جن کی پاداش میں اج بھی جمعیت کے لوگوں کو پھنسیاں دی جا رہی ہے ۔
اس کے بعد ضیاءالحق نے جب طلبہ یونین کو بین کر دیا تو میں اس کی راہ میں رکاوٹ بنی ۔ جس کے بدلے میرے ساتھ جبر و ظلم کا میدان گرم رکھا گیا ۔ میرے کارکنان کو ماریں پڑی ناظم اعلیٰ کو کوڑے مارے گئے جیلیں ہوئی سزائے ہوئی مگر میں ثابت قدم رہی ۔ اور اج دینا گواہ ہے کہ ضیاء الحق کا کوئی نام لینے والا موجود نہیں لیکن میں اسی جذبے کے ساتھ
میدان عمل میں ہوں ۔
پھر 1974 میں جب قادیانیوں کی طرف سے ربوہ سٹیشن پر قادیانیت کا پر چار ہو رہا تھا میرے ہی کارکن تھے جنہوں نے اس کی خلاف آواز اٹھائی اور مار کھائی اور پھر کے خلاف ایک عظیم تحریک برپا کردی جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو آئینی ترمیم کے زریعے کافر قرار دیا گیا۔
میری قربانیوں کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے ۔ملک پاکستان کی سالمیت کی خاطر جہاں 1971 میں مجھے اپنے پیاروں کی قربانی دینی پڑی وہی  اسلامی اقدار کی راہ میں  اج 73 سال بعد  بھی میں اپنے پیارے طفیل کا نذرانہ پیش کر چکی ہوں ۔ لیکن اپنے مقصد عظیم کے حصول کے لیے
میں یہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوں ۔ کیونکہ

وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے

۔دوسری طرف میں طلبہ کے ہر مسئلے پر میں اپ کو بولتی نظر اوں گی۔ان کی نظریاتی نشوونما اور ان کی حفاظت کرتی نظر اوں گی ۔ طلبہ کی اخلاقی و فکری تربیت میرا مشغلہ ہے۔
قران کلاسز اور تربیتی اجتماعات کے زریعے سیرت کا نکھار میرے قلبی سکون کا زریعہ ہے ۔ طلبہ کے اندر قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا میں اپنا فخر سمجھتی ہوں اور کیوں نا سمجھوں کے میں نے
کسیے کیسے نگینے تراشے۔ کس عظیم ہستیوں کو اپنی گو میں پالا ۔ڈاکٹر اسرار احمد، پروفیسر خورشید احمد، مطیع الرحمان نظامی، منور حسن، سراج الحق اور ایک لمبی و طویل فہرست ہے ۔ یہ سارے قائدین میری تربیت کا ثمر ہے
اپ کی پیاری اسلامی جمعیت طلبہ
تحریر: شہاب یوسف کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد

By | 2020-12-24T19:27:01+00:00 December 24th, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment