میری جمعیت

اوریا مقبول جان
(ایک نشست)
میں جمعیت میں اس وقت شامل ہوا تھا جب بنگلہ دیش بن چکا تھا۔لیکن اس پہلے میں جمعیت سے آشنا ضرور تھا۔ جمعیت والوں سے ملاقات ر ہتی تھی ،۷۱ کا جو حادثہ تھا اس نے مجھے بہت تبدیل کیا پاکستان کیساتھ تعلق اس طرح کا تھا کہ میں ذہنی اور فکری طور مسائل کا شکار ہوا تھا۔ اس زمانے میں جمعیت بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلارہی تھی میں اس شامل ہوا اس وقت میں سیکنڈ ائیر میں تھا اس کے بعد میرا جمعیت کیساتھ ایک سفر رہا ہیں،۷۳ میں یونیورسٹی میں آیا یہ یونین کا دور تھا میں نے جمعیت کیطرف سے الیکشن لڑا اس وقت پہلی بار جمعیت گجرات سے الیکشن جیت گئی تھی،اس کے بعد جمعیت کیساتھ ایک طویل جدوجہد ک۔ ۱۹۷۹ء میں میں نے ایم اے کیا ،ہمارے زمانے میں تسنیم عالم منظر ، ظفرجمال بلوچ اور مطیع الرحمن نظامی اور لیاقت بلوچ ناظمین اعلیٰ تھے۔ مطیع الرحمٰن نظامی صاحب سے ایک بار گجرات میں ملاقات ہوئی ۔ محترم لیاقت بلوچ کے ساتھ اچھا وقت گزرا۔
جس زمانے میں ہم تھے اس زمانے میں سب سے برا خطرا کمیونیزم کا تھا۔ظاہری بات ہے کمیونیزم ہمارے بارڈرز پر ٓاگیا تھا۔اس وقت یہ جتنے بھی بڑے بڑے لوگ تھے یہ سارے کمیونسٹ تھے حتیٰ کہ تمام قوم پرست کمیونیسٹ تھے کیونکہ ۱۹۲۰ میں آذربائی جان کے اندر کمیونسٹوں نے ایک فیصلہ کیا تھا کہ ہم قوم پرستی کا راستہ اختیار کریں جمہوریت پر اس کا یقین نہیں تھا صرف انقلاب کی بات کرتے تھے۔ اس زمانے میں یونیورسٹیز کے اندر اگر ان کے خلاف علمی بنیاد پر کوئی لڑنے والا کوئی تھا تو وہ اسلامی جمعیت طلبہ تھی اور کوئی نہیں تھا۔
میرے خیال میں سیکولرزم کے خلاف کوئی لٹریچر نہیں آسکا کمیونیزم کیخلاف جمعیت کو مولانامودودیؒ کی علمی سرپرستی حاصل تھی، مولانا مودودیؒ نے بہت کچھ لکھاتھا اور کام بھی اس پر کررہے تھے،سیکولریزم کے مقابلے میں ہمارے ہاں شروع ہی سے لٹریچر کم ہے حالانکہ مولانا مودودی نے اس زمانے میں بھی سیکولرزم کے بارے میں لکھا ۔لیکن جس طرح کمیونیزم کو توڑا گیا۔ اس طرح سیکولرزم کا توڑ نہیں ہو سکا۔کیونکہ کمیونزم کے خلاف سارے علماء متحد ہوئے تھے لیکن سیکولرزم کے مقابلے میں اسی طرح متحد نہ ہوسکے کیونکہ سیکولریزم نے ایک کوپریٹ کلچرکالبادہ اُوڑھا ہوا ہے، اس نے جمہوریت کا لُبادہ اُوڑھا ہوا ہے، لبرلیزم کا لُبادہ اورھا ہوا ہے اس نے مذہبی راواداری کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے اور پتہ نہیں کیا کیا لبادے اوڑھے ہوئے ہیں جس کیوجہ سے ہم لوگ اسلام سے غافل ہورہے ہیں اس کی علمی بنیاد فراہم نہ ہوسکی ،جو بہت ضروری ہیں۔
سٹوڈنٹس یونین بہت اچھی چیز تھی،آپ کی موجودہ جتنی بھی لیڈرشپ ہیں اسی زمانے میں طلباء قیادت سے نکلی ہوئی ہیں،لیاقت بلوچ،جاوید ہاشمی سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک یہ ساری سٹوڈنٹس لیڈر شپ تھی۔
ہمارا لٹریچر رُک گیا ہے۔ ہمارے چیلنجز اور ہوچکے ہیں ،اب ہمارے اوپر حملے اور طرح کے ہیں مطلب ویسٹ کی طرف سے پورے کے پورے کوآپریٹ نظام کی طرف سے ہمارے اوپر حملے ہیں، بینکنگ سسٹم کی طرف سے حملے ہیں ہماری اقدار کو جدید مغربی تہذیب بنایا گیا جو بہت سخت حملہ ہے۔
ایک زمانے میں سارے بولنے والے جمعیت کیطرف سے تھے اب اسی طرح نہیں ہے میڈیا میں پیچھے کام کرنے والے تو بہت ہیں لیکن سامنے آنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
علم کا کوئی نعم البدل نہیں ،میڈیا کے اندر بولنے والے علمی بنیاد پر تیار کئے جاسکتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں جمعیت کا کارکن بہت متحمل مزاج قسم کا کارکن تھا اب تحمل بہت کم ہوا ہیں۔

By | 2017-12-25T22:58:26+00:00 December 25th, 2017|articles|0 Comments

Leave A Comment