مطالعہ ہمارے ذہنوں کی غذا ہے جو ہماری سوچ کو وسیع اور طاقت ور بناتا ہے۔عدیل چوہدری

مطالعہ ہمارے ذہنوں کی غذا ہے جو ہماری سوچ کو وسیع اور طاقت ور بناتا ہے ہمارے اندر غور و فکر اور شعور کو اجاگر کرتا ہے جذبہ عمل کو ترغیب دیتے ہوئے زندگی کو سفر شعور کی طرف گامزن کرتا ہے جس سے انسان اپنی شخصیت کو نکھارتا ہے صدیوں کے تجربات، مشاہدات، فکر و تدبر اور گرد و پیش کی اصلاحات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے
انسانی نظریات، تحقیقات اور ان گنت سوچوں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر کتب بین کی شخصیت کو پر اثر بناتا ہے جس سے تجویر و ترتیب میں استعدار اور تجربہ میں وسعت پیدا ہوتی ہے انسان اپنے علم و تحقیق کا مقابلہ، موازنہ اور تجربہ دوسروں سے کرتا رہتا ہے اور اپنے اندر شعور کی قوت کو بیدار اور چشت رکھتا ہے کتاب لکھنے والوں کے خیالات و نظریات اور الفاظ و معنی کی خوشبو کو اپنے اندر سمانے کی جستجو میں رہتا ہے جو اس کی طبعیت کو موثر بناتی ہے۔کتب خانہ سے آشنا انسان کتابوں کو ہی کائنات کا خزانہ سمجھتا ہے ہمیشہ اس سے فیض یاب ہوتا ہے کتب خلوت کی بہترین ساتھی ہیں جو تنہائی میں انسانی روح میں حکمت علم کی تشنگی بھرتی ہوئے اس کی شخصیات کو پراثرات اور دلچسپ بناتی ہیں جیسے کتب خانے خاموش مگر اپنے اندر ایک ہلچل لیے ہوتے ہیں ایسے ہی یہ انسان کے من کا کتب خانہ تعمیر کرتے چلے جاتے ہیں اور انسان اتنا ہی اندر سے گہرا ہوتا جاتا ہے۔جیسے جیسے مطالعہ کتب سے قریب ہوں گے آپ کی شخصیت پرکش ہوتی چلی جائے گی یہی علم و آگاہی معاشرے میں مقصد شعور کو بیدار کرتی ہے مطالعہ سوچنے سمجھنے کی اصطلاحات کو جلا بخشتا ہے انسانی سوچ میں وسعت پیدا کرتا ہے گفتگو کو ٹھوس بناتا ہے انسانی دامن کو علم و حکمت سے بھر دیتا ہے۔ قائدانہ اصلاحات کو اجاگر کرتا ہے۔کتب بین کے اندر انسانی فکر، اخلاقی فلسفہ، فضائل کے فہیم، عدل و انصاف کے تصورات اور غور و فکر کے ساتھ زندگی گزارنے کا شعور پیدا کرتا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر لمحے، نئے دن اور افکار کے ساتھ بندر گاہ اور رستے بنا سکیں۔کتب بین زمانے کو اپنے دل کی حرارت کے ساتھ آغوش میں لیتا ہے نئے نئے حقائق آشکار کرنے میں مگن رہتا ہے علم و آگاہی کی بدولت عام سطح سے بلند تر اصلاحات تک رسائی حاصل کرتا ہے زندگی کے مختلف انداز و نظریات اور تحقیقات کو اپنے اندر ضم کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے اسکی گفتگو میں دلائل اور شخصیت میں کشش برپا ہوتی ہے اور زندگی سے پر لطف رہتا ہے دوسروں انسانوں کے مشاہدات و نظریات انسان کے اندر شخصی نکھار پیدا کرتے ہیں یہ نکھار روح کے اندر چھپے احساسات پر غور و فکر کرنے، سوچنے سمجھنے کی صفات و اصلاحات کو اجاگر کرتا ہے انسانی سوچ کو بلندی تک پہنچاتا ہے اس خود سے آشنا کرواتا ہے اس کے اندر تخلیقات کو جنم دیتا ہے اس میں نئی روح پھونکتا ہے،حیرت انگیز اصلاحی امواد ذخیرہ کرتا ہے جو چیزوں کو سہی طریقے سے پرکھنے اور فیصلہ کن اصلاحات پر پہنچاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عقل لوگ ہمیشہ مطالعہ کرتے رہتے ہیں یہ انہیں خاص ذوق میں پروان چڑھتا ہے جس سے پختگی پیدا ہوتی ہے اور انسان سنجیدہ مزاج بنتا ہے۔

By | 2019-10-30T23:12:23+00:00 October 30th, 2019|articles, Latest News|0 Comments

Leave A Comment