مسئلہ کشمیر پرحکومت کا دوٹوک مؤقف ہونا چاہیے۔ محمد عامر سلیکٹڈ وزیر اعظم کب تک عوام میں آنکھوں میں دھول جھونکتے رہیں گے۔ناظم اعلی جمعیت

مسئلہ کشمیر پرحکومت کا دوٹوک مؤقف ہونا چاہیے۔ محمد عامر
سلیکٹڈ وزیر اعظم کب تک عوام میں آنکھوں میں دھول جھونکتے رہیں گے۔ناظم اعلی جمعیت
موجودہ حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی نے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔محمد عامر ناگرہ

لاہور(پ۔ر) مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا کئی دہائیوں سے واضح مؤقف ہے، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری قوم اکٹھی ہے،مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو آج 42دن گزرگئے ہیں اور ذرائع مواصلات مکمل بند ہیں۔پاکستانی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔اگر کشمیر کاز کے لئے کچھ کرنا ہے توحکومتکوواضح موقف اپنانا چاہیے، ہومیوپیتھک پالیسیوں نے ملک کا بیڑاغرق کردیا ہے ان خیالات کا اظہار ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان محمد عامر نے مختلف تنظیمی فورمز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھارت کشمیر میں 80 لاکھ کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے لیکن افسوس کہ عالمی طاقتیں بھی اس پر خاموش ہیں۔ ہمارے سلیکٹڈ وزیر اعظم صرف پاکستان میں بیٹھ کر ٹیلی فون پر دیگر ممالک کے سربراہوں سے رابطے کرکے پاکستانی عوام کوپاگل بنا رہے ہیں جبکہ حقیقت اسکے بلکل برعکس ہے،ناظم اعلی نے کہا کہ ہم پریکٹیکل ورک کے قائل ہیں،باتوں سے ہمیں مطمئن نہیں کیا جاسکتا،ہمیں کشمیر کے ایشو پر دوٹوک موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ افسوس ہے کہ پوری پاکستانی قوم کشمیر کے اشیو پر جس طرح کی توقع موجودہ حکومت اورسلیکٹڈ وزیر اعظم سے رکھے ہوئے تھی اس میں انہیں مایوسی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی نے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔بھارت نے ہمیشہ دفعہ 370 کو کشمیر کی داخلی خود مختاری کو علامتی ضمانت کے طور پر پیش کیا لیکن کشمیریوں نے، پاکستان اور اقوام متحدہ نے اس آرٹیکل کو کبھی تسلیم نہیں کیا،اس آرٹیکل کے تحت کشمیریوں کے علیحدہ آئین اور کشمیر کا علیحدہ جھنڈا رکھنے کا اختیار تھا جسے 5 اگست کو ختم دیا گیا ہے، پاکستان کو عالمی عدالت کے بجائے سلامتی کونسل کے پاس جانا ہو گا، سلامتی کونسل کو بھی پاکستان اور کشمیریوں کی طرف سے درخواست کا انتظار کرنے کے بجائے از خود نوٹس لے کر خطے میں تباہ کن جنگ کے امکانات کو ختم کرنا ہو گا کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت یہ سلامتی کونسل کی ذمے داری ہے کہ وہ ان خطرات کے پیش نظر اپنا کردار ادا کرے۔انکا مزید کہنا تھا کہ مہاتما گاندہی، جواہر لعل نہرو اور سردار پٹیل نے دباؤ ڈال کر مہاراجہ ہری سنگھ سے معاہدہ الحاق پر دستخط کرائے،شیخ محمد عبداللہ کو جھانسا دیا گیا کہ کشمیرنیم خود مختار ریاست ہوگی اور آپ اس کے وزیر اعظم ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 122اور 92میں واضح کر دیا گیا ہے کہ بھارت یا کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کشمیریوں کے مستقبل کے حوالے سے یکطرفہ طور پر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر1947ء میں کشمیر پر قبضہ اور پھر اگست 2019میں دوبارہ حملہ کر کے ریاست کو مقبوضہ علاقے سے ایک کالونی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔کشمیر پر بھارت کا حملہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی منافی ہیں، کشمیریوں کو اپنی زمین چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے یہ تمام اقدامات بین الاقوامی اور ہیومینٹرین قانون کی خلاف
ورزی ہے۔

By | 2019-09-20T22:44:47+00:00 September 20th, 2019|Latest News|0 Comments

Leave A Comment