قوموں کی عزت اُن سے ہے۔ریان احمد حمزہ

عورت معاشرے کا اہم ستون ہے۔ وہ عورت جب بیٹی ہو تو اُس گھر کی عزت ہوتی ہے۔ جب بیوی بن جائے تو گاڑی کا دوسرے پہیے کی مانند ہوتی ہے اور جب ماں بن جائے تو جنت اُس کے قدموں تلے ہوتی ہے۔
یہی وہ عورت ہے جو بچے کی تربیت اور پرورش کرتی ہے۔ اور قوم کو تشکیل دیتی ہے۔نپولین نے کہا تھا “تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں بہترین قوم دوں گا”۔ عورت کے بغیر معاشرہ نامکمل ہے۔ معاشرے کو مکمل کرنے کے لیے عورتوں کو اُن کے جائز حقوق ضرور ملنے چاہیے۔
دنیا میں کوئی تحریک ہو، وہ اپنے نعرے سے پہچانی جاتی ہے۔ ماؤ کی تحریک کا نعرہ تھا “Save the people”، مزدوروں کی تحریک چلی تو اس کا نعرہ “Bread & Roses”، مارٹن لوتھر نے ایک نعرے سے دنیا حلا دی “I have a dream”، بھارتی وزیراعظم لال بہادر نے نعرہ لگایا “جئے کسان جئے جوان” امریکی انقلابی جنگ میں نعرہ لگا”Give me liberty or give me death” بھٹو نے نعرہ لگایا “روٹی کپڑا مکان”، کیا خوبصورت نعرے تھے۔ ایسے نعروں سے تحریکوں کو اپنے مقصد کا حصول کے لیے کافی مدد دی ملی۔ اِن نعروں نے دنیا میں کھلبلی مچا دی۔ مگر یہ کیسا نعرہ ہے کہ “میرا جسم میری مرضی” ؟؟؟؟
یہ سراسر فحاشی کو عام کرنے کی کوشش ہے۔ یہ نعرہ درحقیقت برازیل سے نکلا، وہاں حکومت نے طوائف خانوں پر پابندی لگائی تو اس کا دھندا کرنے والی عورتوں نے کہا کہ حکومت کو کیا تکلیف ہے، ہمارا جسم ہماری مرضی، جس کو مرضی بیچیں۔ اور اب یہ نعرہ پاکستان آگیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ نعرہ اسقاط حمل اور مانع حمل اشیاء کے استعمال کو جائز قرار دینے پر لگایا جارہا ہے۔ یہ قیامت کی نشانی ہے کہ خواتین بچہ پیدا کرنا نہیں چاہیں گی۔ یہ فیمنسٹ اس بات کی آزادی چاہتے ہیں کہ وہ جب چاہیں اور جس شخص سے چاہیں بچے پیدا کریں، بغیر نکاح کے رہیں اور مرضی سے جس کے ساتھ جب اور جہاں چاہیں جائیں۔ گذشتہ کسی سال کے عورت مارچ کا ایک کلپ موصول ہوا۔ جس میں ایک شخص نے کہا کہ “یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے کم ہو رہا ہے، یہ مزید ہونے چاہیے۔ جب تک ہم نکاح ختم نہیں کریں گئے، یہ مارچ اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکے گا۔ نکاح کا رواج انگریزوں نے ہم پر 1825 میں انگریزوں نے ہم پر نکاح مسلط کیا ورنہ ہندوستان میں کبھی نکاح نہیں ہوا کرتا تھا۔”
یہ چند لوگ اسلام کو جانتے ہی نہیں۔ یہ صرف نام کے مسلمان ہیں۔ یہ چند عناصر دو قومی نظریہ جانتے ہی نہیں۔ اگر ہمارے بزرگوں نے پاکستان کو سیکولر بنانا تھا، تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔ دو قومی نظریہ ہے ہی یہی چیز کہ مسلمان اپنی سرزمین پہ صحیح معنوں میں اسلامی شریعت کا نفاذ کر کے عملی زندگی بسر کر سکیں۔ اسلام عورت کو تمام تر حقوق دیتا ہے مگر یہ تو خود اللہ کے احکام نہیں جانتے۔
اگر جانتے تو ایسے مارچ کبھی نا نکالتے۔ صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ اگر کسی معاشرے کو تباہ کرنا ہو تو اس معاشرے کی نوجوان نسل میں فحاشی عام کر دو۔ رسول ﷺ نے ہم مسلمانوں کو تلقین کی تھی کہ ایسی عورتوں سے شادی کرو جو زیادہ بچے پیدا کر سکتی ہوں اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے روز اپنی وسیع امت دیکھ کر خوش ہوجاوں گا۔ مگر یہ اسلام مخالف عناصر برتھ کنٹرول کا کہتے ہیں۔ طبی مداخلت سمیت وہ ہر ممکن حربہ اپنا رہے ہیں۔ اسقاط حمل کا مقصد یہی ہے۔ اُن کا مقصد ہماری قوم کی آبادی کم کرنا ہے تاکہ ہم باقی قوموں کے مقابلے میں پیچھے رہ جائے۔ لہذا جب بھی ہم اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کریں گے تو بربادی ہمارا مقدر ہوگی۔ اگر آج ہم صرف میرا جسم میری مرضی کے نعرے والے جلوس کو برداشت کرے گئے تو کل کو نیم برہنہ اور پرسوں مکمل برہنہ جلوس بھی زیادہ غلط محسوس نہیں ہوں گے۔
اس طرح کے جلوس میں سوائے فحش نعروں کے کچھ نہیں۔ یہ سراسر اسلامی اور ہمارے معاشرتی اقدار کے خلاف ہیں۔ یہ عورت مارچ جنسی آزادی مانگتا ہے، حقوق نہیں۔ ان کے مارچ میں آپ کو کہیں بھی عورتوں کا وراثت میں حق، خواتین کے لئے باعزت ٹرانسپورٹ، ٹھیکیداری نظام ختم کرکے ملازم خواتین کو مستقل کرنے، قرآن سے شادی اور کاروکاری جیسی ظالیمانہ رسوم کا خاتمہ، عورتوں کا اشتہارات میں سامان بیچنے کا ذریعہ نہ بنانا، دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو مردوں کے مساوی تنخواہ دینا، جہیز، اور خواتین کے لئے الگ یونیورسٹیوں کا قیام جیسے مطالبہ نظر نہیں آئیں گے۔
ان کے مارچ میں آپ کو کہیں بھی عورتوں کے حقوق نظر نہیں آئیں گے۔ ان کے ہاتھوں میں ایسے پلےکارڈز نظر آتے ہیں، جس پر درج نعرے نہ صرف متنازعہ بلکہ ہماری روایات، ثقافت اور مذہبی اقدار کے بھی منافی ہے۔ یہی عورت مارچ کی خواتین اُس وقت ایک لفظ نہ بولیں، جب زینب الرٹ بل میں پھانسی اور قصصاص کی سزا ختم کر دی۔ یہ عورت کے اصل مسئلے مسائل جانتے ہی نہیں۔ الٹا یہ حجاب کو برا بھلا کہنے والے ہیں۔ یہ برقے کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ اسلام کو اپنا ہدف بناتے ہیں۔ یہ عورتوں کے حقوق کے اصل علمبردار نہیں۔
جب کوئی ملک قرضے لیتا ہے، تو بدلے میں اپنا کلچر، ثقافت اور روایات بیچ دیتا ہے۔ یہ عورت مارچ اسی کا صلہ ہے۔ یہ بیرونی فنڈیڈ مارچ ہے۔ جس کا مقصد فحاشی عام کرنا ہے۔ یہ مارچ بیرونی طاقتوں کا ایجنڈا ہے۔ آپ ایک پل کو ذرا سوچئے اور بتائیں کہ اِن جلسے جلوس اور ہزاروں اشتہارات کو سڑکوں چوراہوں پر لگانے کے فنڈز آخر کہاں سے آرہے ہیں۔ کیونکہ مجھے ان بینرز پر کوئی سپونسر نظر نہیں آرہا۔ آخر اِن کی فنڈینگ ہو کہاں سے رہی ہے؟
جاوید چوہدری نے اپنے کالم “عورت” میں کیا خوب کہا ہے کہ
“آج جب میں اِن چند ناسمجھ عورتوں کو مغرب جیسی آزادی طلب کرتی ہیں۔ جس میں طلاق، جنس اور ناجائز بچوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ تو میں سوچتا ہوں افسوس میڈونا اور الزبتھ ٹیلر جیسی زندگی کی خواہشمند عورتیں یہ بھول گئیں کہ ان کی تاریخ میں ایک فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی تھی۔ اصلی اور سچی عورت۔”

اٹھا کر پھينک دو باہر گلي ميں،
نئی تہذيب کے انڈے ہيں گندے۔

مياں نجار بھي چھيلے گئے ساتھ،
نہايت تيز ہيں يورپ کے رندے۔
~علامہ اقبال

By | 2021-03-08T12:58:22+00:00 March 8th, 2021|articles|0 Comments

Leave A Comment