فیس میں کمی اور تعلیمی گرانٹ میں اضافہ کیا جائے-ناظم اعلی حمزہ محمد صدیقی

فیس میں کمی اور تعلیمی گرانٹ میں اضافہ کیا جائے.
میڈیکل کے طلبہ کو درپیش مسائل کو فی الفور حل کیا جائے.
جامعات کی خود مختاری کو برقرار اور تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے.
فیس کیساتھ ٹیکس کی وصولی کسی صورت قبول نہیں.
جمعیت نے پورے ملک میں ” حقوق طلبہ ” مہم کا آغاز کر دیا.
حمزہ محمد صدیقی ناظم اعلی جمعیت کی پریس کانفرنس

(لاہور)
ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حمزہ صدیقی نے مرکزی ٹیم کے ہمراہ سنٹرل سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے تعلیمی بجٹ میں مسلسل کمی کے نتیجے میں ملک میں فیسوں میں بے تحاشہ نے طلبہ اور والدین کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے. جمعیت طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فی الفور ” فیس گھٹاؤ, گرانٹ بڑھاؤ” کے مطالبہ پر عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ پریشان حال طلبہ اور والدین کو ریلیف مل سکے. علاوہ ازیں میڈیکل کالجز میں پڑھنے والے طلبہ حکومت کے حالیہ اقدامات سے شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہیں. حکومت کی جانب سے میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹ کے نصاب کو جلد بازی میں تبدیل کرنا, PMD کو ختم کر کے PMC کی تشکیل اور طلبہ سے ڈگری کے اختتام پر NLE ٹیسٹ لینا کسی طور پر قبول نہیں. ناظم اعلی جمعیت نے حکومت کے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر نصاب میں تبدیلی واقعی ناگزیر ہے تو حکومت طلبہ کو ایک سال قبل آگاہ کرے تاکہ طلبہ نئے طرز کے نصاب کے مطابق تیاری کر سکیں, اور مطالبہ کیا کہ PMD کو بحال اور NLE ٹیسٹ کو ختم کیا جائے اور طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کو بند کیا جائے. حمزہ صدیقی نے کہا کہ لمحہ فکریہ ہے کہ ریاست جسکی بنیادی ذمہ داری شہریوں کو مفت اور آسان تعلیم فراہم کرنا ہے, طلبہ سے فیس کیساتھ ٹیکس بھی وصول کر رہی ہے جو صریحاً آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور حکومتی ذمہ داریوں سے پہلو تہی ہے, ہم اسے مسترد کرتے ہیں. دنیا بھر میں نجی جامعات کو کنٹرول کرنے کیلیے ریگولیٹری اتھارٹیز قائم ہیں لیکں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نجی جامعات سے متعلق کوئی اسطرح کا فورم نہیں. ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ نجی یونیورسٹیز کیلیے ریگولیٹری اٹھارٹی کا قیام عمل میں لانے کیساتھ فیسوں کو subsidies کیا جائے. علاوہ ازیں جامعات کی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے جرنیلوں اور بیوروکریسی کے بجائے اہل علم و دانش کو اعلی مناصب پہ فائز کرنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہو اور ملک ترقی کی منازل اختیار کر سکے.
ناظم اعلی جمعیت نے آخر میں حکومت کو متنبّہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان مطالبات پہ عملدرآمد کو یقینی بنائے, عدم عملدرآمد کی صورت میں جمعیت, طلبہ سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گئی.

By | 2020-10-22T22:17:34+00:00 October 22nd, 2020|Latest News, Slider|0 Comments

Leave A Comment