طلبہ یونین کے ساتھ غیر جمہوری رویہ, شہاب یوسف

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل  نمبر 17 کسی بھی شہری کو  انجمن یا یونین بنانے کا حق دیتا ہے ۔پاکستان کا ہر طبقہ آئین کے اس آرٹیکل کے تحت یونین سازی میں آزاد ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں  ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے یونینز موجود ہیں ۔ سیاسی پارٹیاں، وکلاء ، صحافی،تاجر، کسان، مزدور، ڈاکٹرز، نرسز، ڈرائیور، اساتذہ الغرض تمام شعبہ ہائے جات آئین کا دیا ہوا یہ حق استعمال کر رہے ہیں ہے۔ اگر کوئی اس آئینی حق سے محروم ہیں تو وہ پاکستان کے طلبہ ہیں ۔ اج سے 37 سال قبل 9 فروری 1998ء فروری کو طلبہ سے ان کا یہ آئینی حق چھینا گیا۔ اس وقت کے صدر ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے مارشل لاء آرڈر 1371 جاری کر کے طلبہ یونین پر پابندی عائد کر دی اور وجہ یہ بتائی کہ طلبہ یونینز کی وجہ سے تعلیمی اداروں کا ماحول خراب ہو رہا ہے ۔جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ ضیاء الحق ان طلبہ یونین سے اپنی ڈکٹیٹر شپ کو خطرہ محسوس کر رہے تھے ۔ طلبہ نے غیر آئینی فیصلے کے خلاف ملک بھر میں تقریباً 3 مہینے تک احتجاجی تحریک چلائی ۔بہت سارے طلبہ کو پابند سلاسل کیا گیا ۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے ضیاء کی اس غیر آئینی اقدام کی شدید مخالفت کی جس کے بدلے میں جمعیت کو کو بطورِ خاص ٹارگٹ کیا گیا ان  ارکان کے ساتھ ساتھ جمعیت کے ناظم اعلیٰ کو بھی ایک سال قید کی سزا سنائی اور کوڑے بھی لگائے گئے ۔ لیکن ان ظلم و ستم کے باجود جمعیت نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور سپریم کورٹ میں کیس لڑا۔ جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا.1988 میں جمہوریت بحال ہوئی اور بے نظیر بھٹو کی حکومت آئی انہوں نے طلبہ یونین کی بحالی  کا اعلان کیا لیکن بدقسمتی سے سپریم کورٹ اف پاکستان نے 3 سال کے مختصر دورانیہ کے بعد ایک بار پھر یونین پر پابندی عائد کر دی اور کہا کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے قواعد و ظوابط کا تعین کرے ۔ ان تین سال کے دوران  صرف پنجاب کے تعلیمی اداروں کے اندر یونین کے الیکشن پر امن انداز میں کرائے گئے لیکن تشدد کو بنیاد بنا کر اس آئینی ادارے کو مفلوج کیا گیا ۔
جنرل مشرف کے دور حکومت کے بعد 2008 میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی ۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسمبلی میں اپنی پہلی خطاب کے اعلان کیا کہ 100 دن کے اندر طلبہ یونین کو بحال کر دیا جائے گا ۔ان کی پانچ سالہ حکومت ختم ہوئی مگر یونین بحال نہ ہوسکے ۔ ازاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری عبدالحمید نے2015 میں طلبہ یونین بحال کرانے کا نوٹیفکیشن جاری جاری کردیا تھا لیکن الیکشن کرانے میں ناکام رہے ۔2017 میں چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے سینیٹ سے قراد پاس کروائی لیکن تا حال سرد خانے میں پڑی ہے ۔پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے دسمبر 2019  یونینز کی بحالی کا بل منظور کر لیا۔سفارشات کو مرتب کرنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی لیکن ابھی تک سفارشات فائنل نہیں کیے گئیں ۔
مجودہ وزیراعظم عمران خان نے 1 دسمبر 2019 کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ” یونیورسٹیاں ملک کے مستقبل کے رہنما تیار کرتی ہیں اور طلبہ یونین اس کا ایک لازمی جزو ہے” خان صاحب نے فرمایا کہ “بین الاقوامی طرز کا بہترین ایک جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق بنائیں گے اور طلبہ یونین کی بحالی قابل یقین بنائیں گے تاکہ نوجوان مثبت انداز میں مستقبل کے قائدین تیار کر سکیں ” خان صاحب کے اس ٹویٹ کو 2 سال سے زائد گزر گیا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔خیبرپختونخوا میں خان صاحب کی حکومت کو سات سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں ۔
طلبہ یونین کی پابندی ایک ڈکٹیٹر کا عمل تھا مگر ہماری جمہوری حکومتوں کا جمہوری رویہ بھی اس حوالے سے بیانات کی حد تک ہے ۔تشدد کے الزامات کو بنیاد بنا کر اس آئینی ادارے کو معطل کردیا گیا ہے ۔ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو اس حوالے سے کوئی ایسی مربوط حکمت عملی وضع کرے کہ جس نتیجے میں تشدد کا عنصر سرے سے ختم کیا جاسکے اور اگر کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو سزا دی جائے ۔مگر یہ ادارہ بحال کیا جائے ۔اۓ روز اسمبلیوں کے اندر جو کچھ ہم دیکھتے ہیں اس پر ہزار ہا تنقید کرتے ہیں  لیکن اگر کوئی اس کی آڑ میں اسمبلی ہی ختم کروانے کی بات کرے گا تو اپ اس کو بے وقوف کے علاوہ اور کیا کہیں گے؟

By | 2021-02-09T13:53:26+00:00 February 9th, 2021|articles|0 Comments

Leave A Comment