طلبہ یونین، کیوں اور کیسے؟ حافظ محمد ادریس، ترجمان اسلامی جمعیتِ طلبہ پاکستان

لاہور میں ایک کالج کا “سالانہ عشائیہ” تھا، اس میں شرکت کی دعوت ملی،  انتظامات اس قدر شاندار تھے گویا کوئی بڑی دعوت ہے، پروگرام کا ہال، کیٹرنگ کا سامان، سجاوٹ کے لوازمات اور آخر میں کھانا سب کچھ ہی بہترین تھا۔ منتظمین  سے سوال کیا کہ پروگرام تو بہت شاندار ہے، اس کا بجٹ بھی اسی قدر ہوگا تو یہ بجٹ  آیا کہاں سے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کالج کو اس پروگرام کا مکمل بجٹ مہیا کیا جاتا ہے ہمیں کالج انتظامیہ وہ پیسے دیتی ہے اور ہم انہی پیسوں سے یہ پروگرام کراتے ہیں۔

 حیرت ہوئی کہ یہ روایت اور کسی جگہ تو سنی نہ دیکھی، حکومت صرف اسی کالج پہ مہربان کیوں ہے؟  معلوم ہوا کہ حکومت کی طرف سے تو یہ بجٹ طے ہوتا ہے لیکن طلبہ اس سے ناواقف ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ  ناواقف رکھا جاتا ہے۔ نتیجتاً طالبعلموں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ساتھ ہی کتابوں  میں پڑھا گیا طلبہ یونین کا دور یاد آگیا، یونین کے دور میں جب طلبہ اپنے نمائندے منتخب کرتے تھے اور وہ نمائندے منتخب ہی اس لیے کیے جاتے تھے کہ عام طلبہ کے حقوق لے کر دیں۔طلبہ یونین کے نہ ہونے اور اس پر پابندی لگانے کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوا کہ طلبہ اول تو اپنا حق ہی نہیں جانتے، دوم  اگر ان کو اپنا حق معلوم بھی ہو تو اسے حاصل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

حقوق کی بات سے ذرا ایک قدم آگے نکلیں  تو آپ کو ملکی تاریخ کے اہم ترین سیاستدان طالب علمی  کے دور میں قیادت کرنے والے لوگ نظر آئیں گے۔ یہ لوگ عام طالبعلموں کی طرح تھے، موروثی سیاست کے انعام یافتہ اور اپنے باپ دادا کے بل بوتے پہ سیاست کرنے والوں سے کہیں زیادہ قابل اور تربیت یافتہ یہ سیاستدان عام طالبعلموں میں سے اٹھ کر پہلے انہی کے قائد بنے اور بعد میں ملک کے ہر سیاسی محاذ پہ اپنا لوہا منوایا۔تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم اور قابل افراد کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، آپکو ان کا تعلق کسی نا کسی موڑ پہ طلبہ سیاست سے ملے گا۔اور کیوں نہ ملے؟ جب کہ یونین کے دور میں قیادت کے امیدوار کے لئے حاضری ، تعلیمی قابلیت ، دوران الیکشن کم سے کم پیسے کا استعمال ا ور کسی غیر اخلاقی ماحول سے اجتناب جیسی شرائط رکھی جاتی تھیں۔

اب جبکہ طلبہ یونین پہ پابندی لگا دی گئی ہے تو اس قسم کے سیاستدان معاشرے میں آنا بند ہوگئے ہیں اور معاملہ ایک دفعہ پھر موروثی سیاست کے رکھوالوں کے ہاتھ میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

طلبہ یونین کے سیاسی فوائد کا تجزیہ کریں تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اداروں میں عام طور پہ اور الیکشن میں خصوصاً بیرونی عناصر کے داخلے اور  مداخلت پہ مکمل طور پر پابندی تھی جو بدقسمتی سے ہمارے عمومی ملکی سطح کے الیکشن میں بھی ناپید ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے فوری بعد امیدواران کا ایک دوسرے پہ دھاندلی کا الزام لگانا ایک عام چیز ہے۔بیرونی عناصر کا یونین الیکشن میں دخل انداز نہ ہونا اس حقیقت  کا غماز ہے کہ تعلیمی اداروں میں کس قدر صحت مند سیاسی ماحول تھا۔

یونین معاشرے میں سیاسی شعور پھیلانے میں کس قدر کردار ادا کرسکتی ہے، اس کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش بنا تو اپنے تمام تر نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود جمعیت اور این ایس ایف  ”بنگلہ دیش نامنظور” تحریک میں ایک ساتھ تھیں ۔ (بحوالہ ندیم ایف پراچہ۔ ڈان۔ 3 جولائی 2014ء)

آج تعلیمی اداروں کی انتظامی صورتحال پر نظر دوڑا ئیں تو معلوم ہوتا ہے  کہ ایک کلرک سے لے کر پرنسپل اور وی سی تک ہر بندہ عام طالبعلم کے لئے ایک فرعون کا درجہ رکھتا ہے ۔ یونین کا ادارہ  اپنے اندر”روبرو” کے عنوان سے ایسی سنہری روایت رکھتا تھا کہ جس میں کالج پرنسپل یا وی سی اپنے ادارے کے طلبہ و طالبات کے سامنے جوابدہ ہوتا تھا۔اب اس بات کا تصور ہی محال ہے اور اس کی واحد وجہ یونین کا نہ ہونا ہے۔

قانونی اور آئینی  طور پہ دیکھا جائے تو 1974 کا سٹوڈنٹس یونین آرڈی نینس طلبہ سیاست کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اسی طرح آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 17 طلبہ کو بلکہ پاکستان کے ہر شہری کو یونین سازی کا حق دیتا ہے۔ یہاں پر ایک مرتبہ پھر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس حق کو رکشہ یونین، نائی یونین، ریڑھی بان یونین ، ٹریکٹر ٹرالی یونین تو بھرپور طریقے سے استعمال کررہی ہے لیکن ملک کے مستقبل یعنی طلبہ پر اس کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں۔

افسوس اس بات پر بھی ہے کہ خود طلبہ یونین کا حصہ رہ کر طلبہ سیاست میں نام پیدا کرنے والے کئی نامی اور نامور بھی اب بڑوں کی چاپلوسی کرتے کرتے اپنا دور بھول چکے ہیں۔ان سے زیادہ گلہ اس لئے بھی بنتا ہے کہ انہیں بنانے اور اس مقام تک پہنچانے میں طلبہ سیاست کا اہم کردار تھا لیکن آج وہ نئی راہوں کے راہی بن کراپنے پیچھے آنے والوں کے راستے کے نشانات مٹا گئے ہیں۔

 ذرا ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی نظام پر نظر دوڑا ئیے، تعلیمی لحاظ سے ان کے اور ہمارے درمیان زمین و آسمان کے فرق کی  وجوہات میں سے  ایک طلبہ یونین کا ہونا اور نہ ہونا بھی ہے۔”پلڈاٹ ڈسکشن ستمبر 2008” کے مطابق   کینیڈا  اور انڈیا میں طلبہ یونین موجود ہے اور بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کررہی ہے۔اسی طرح امریکہ ، برطانیہ اور ساؤتھ افریقہ کی جامعات اور  کالجز  حتی کہ سکولز  میں بھی یونین کا ادارہ موجود ہے۔

وطنِ عزیز میں ضیاء دور یونین پر پابندی9 فروری 1984  کو   طلبہ یونین پہ پابندی عائد کردی گئی، طلبہ تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کیا، جمعیت کے ناظم اعلی کو جیل اور کوڑوں کی سزا ہوئی۔دسمبر 1988 میں محترمہ بینطیر بھٹو نے اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں یونین بحال کرنے کا اعلان کیا، 1989 میں مختلف ایکٹس پاس کر کہ مارشل لاء آرڈی نینسز کو منسوخ کر  کہ آئینی طور پر یونین کا ادارہ بحال کر دیا گیا۔ 90ء ، 91ء اور 92ء طلبہ تنظیموں میں جھگڑوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں یونین  انتخابات ملتوی ہوتے رہے۔ 92ء میں سندھ میں آرمی آپریشن کی وجہ سے انتخابات نہ ہو سکے۔ 1 جولائی 1992ء کو سپریم کورٹ نے ایک عبوری حکم  نامہ جاری کیا کہ تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتے وقت طالب علم سے ”سیاسی سرگرمیوں میں  شرکت نہ کرنے ” کا حلف نامہ لیا جائے۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس فیصلے کو چیلنج کیا، 10 مارچ 1993ء کو سپریم کورٹ کے بنچ نےجمعیت کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل اویس قاسم کی مدعیت میں دائر کردہ پیٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئےطلبہ گروپس اور یونین سرگرمیوں کو بحال کر دیا البتہ یونین کے ادارے کو  اس کی مکمل روح کے ساتھ بحال نہیں کیا۔ کلاسیکل یونین سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن طالب علم نمائندے کی تعلیمی ادارے کی انتظامی امور میں رسائی یا ان میں عمل دخل سے روک دیا۔

29 مارچ 2008ء کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یونین پر پابندی اٹھانے کا اعلان کیا لیکن ان کے پورے دورِ حکومت میں اس پر عمل نہیں ہو سکا۔ اگلے قومی انتخابات میں سندھ اور آزاد جموں و کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے یونین انتخابات کروانے کا اعلان کیا ، اسلامی جمعیت طلبہ نے ہر مرتبہ اعلان کا خیر مقدم کیا، سندھ صوبائی وزراء سے ملاقات کر کہ اس فیصلے کو سراہا گیا،  تاحال  ان اعلانات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ 2016 ءاور 17ء  میں ایوانِ بالا میں یونین بحالی کے حوالے سے بحث ہوئی، فل ہاؤس کمیٹی تشکیل دی گئی، ہاؤس نے متفقہ طور پر یونین کا ادارہ بحال کرنے کی قراداد پاس کی۔ اس موقع پر بھی جمعیت نے قراداد کا خیر مقدم کیا، سینٹ  یونین کے  طریقہ کار اورایسے اصول و ضوابط پر مبنی تجاویز بھی پیش کی گئیں، جس کے مطابق الیکشن میں حصہ لینے والے طالب علم کی حاضری کا پورا ہونا، اس کی تعلیمی کارکردگی کا اچھا ہونا اور اخلاقی اعتبار سے بہتر ہونا لازم قرار دیا جائے،الیکشنز کے دوران جن پرتشدد رکاوٹوں یادھاندلیوں کا خدشہ پیش کیا جاتا ہے ان کی روک تھام کے لیے بھی تجاویز موجود ہیں؛امیدوار کو ایک معقول حد سے زیادہ پیسہ خرچ کرنے کی اجازت نہ ہو، بیرونی عناصر کی مداخلت ممنوع ہونی چاہیے، اور کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی یا خلافِ اصول سرگرمیوں کی اجازت نہ ہو۔مزید یہ کہ ان  تمام قواعد میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی کرنے پہ امیدوار کو نا اہل قرار دے دیا جانے کی تجویز پیش کی گئی۔

اگر ان تمام قواعد پہ عمل درآمد ہوتو کسی بھی قسم کے خدشات باقی نہیں رہیں گے۔ اور طلبہ یونینز ایک صحتمند ماحول میں طلبہ کو باشعور اور دیانت دارانہ سیاسی سمجھ بوجھ دے سکیں گی۔

اس وقت کے ملکی حالات بھی اس بات کے متقاضی ہیں کہ نوجوانوں کو جو کہ ملک کا ایک بڑا سرمایہ ہیں تعلیم کی طرف لگایا جائے، تعلیم سے تربیت اور پھر قیادت کا ہنر ان لوگوں کو منتقل کیا جائے تاکہ ملکی ترقی کا عمل جاری رہ سکے۔  طلبہ یونین کی  بحالی اس سلسلے میں سب سے زیادہ معاون ثابت ہوگی۔ طلبہ کےساتھ ساتھ ملک کے تمام باشعور طبقات کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ یونین ، جو کہ اصولی طور پر بحال ہے،  اس کی عملی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

By | 2018-02-17T15:55:28+00:00 February 17th, 2018|articles|1 Comment

One Comment

  1. jamshaid munir March 25, 2019 at 3:24 pm - Reply

    Jamiat

Leave A Comment