حیاء نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی, اسامہ شہزاد چیمہ

حیاء نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

ملک و قوم کے مستقبل میں اجالوں یا تاریکیوں کا انحصار نوجوان نسل کے اجلے کردار یا تاریک احوال پہ ہوتا ہے اور تاریخ نے یہ بارہا دکھلایا ہے کہ بے داغ جوانِیاں ہی روشن مستقبل کی ضامن ہیں۔ مملکتِ پاکستان و مسلم قوم بھی اس آفاقی اصول سے ماورا نہیں ہیں۔
لاہور میں سامنے آنے والے افسوسناک واقعہ کا تو بہت چرچا ہوا جب ایک لڑکا اپنی محبوبہ کی نعش ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گیا، اور اس لڑکی کی نعش کے وجود کے اندر بھی جدید محبتوں کے شاخسانے کی صورت اِک معصوم کی نعش موجود تھی۔ دونوں افراد عاقل تھے بالغ تھے اور اس جدید دنیا میں جدید محبتوں کے ڈسے ہوئے بھی تھے۔ مگر ان نا محرم محبتوں کا جو انجام نکلتا ہے وہ سارے عالم نے دیکھ لیا۔ یہ تو سطح پہ سامنے آنے والا صرف ایک واقعہ تھا۔ نا جانے ایسی کتنی محبتیں نوجوان نسل کو اپنے خمار میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔
چند روز گزرے ہیں کہ انجان نمبر سے ایک کال موصول ہوئی۔ گھنٹہ بھر پہ محیط اس کال میں پشیمان آنسوؤں اور بے اختیار سسکیوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ فون کرنے والی اِک نوعمر خاتون تھیں جنہیں قانونی صلاح درکار تھی اور ان کے ساتھ بیتی کچھ یوں تھی کہ یونیورسٹی میں اپنے کلاس فیلو سے محبت ہو گئی۔ جدید دور ہے، محبت تو یہاں ہر دوسرے فرد کو ہو جاتی ہے، سو رائج الوقت تقاضوں کے مطابق انہیں بھی ہو گئی۔ ڈگری کے چار سال مکمل ہوئے تو محبت بھی چار سال کی ہو گئی اور ان سالوں میں یہ محبت اپنی معراج کی تمام منزلیں طے کر چکی تھی۔ ان کے اپنے بقول، ان کی محبت میں ماسوائے کاغذ کے ایک ٹکڑے کے کچھ باقی نہیں تھا۔ ڈگری مکمل ہونے کے بعد لڑکے نے فی الفور کہیں اور شادی کر لی اور اب اپنی محبت کو ہر فورم سے بلاک کر رکھا تھا۔ لڑکی جب ان صاحب کے گھر جا پہنچیں تو لڑکے کے والدین کہنے لگے کہ آپ عاقل ہیں بالغ ہیں اپنی مرضی کی مالک ہیں لہذا جو ہوا سو ہوا، آئیندہ اگر آپ ہمارے دروازے تک پہنچ کر ہماری بدنامی کا باعث بنی تو زندہ واپس نہیں جائیں گی۔ اور اب اس لڑکی کے پاس پشیمان آنسووں اور بے اختیار سسکیوں کے سوا کچھ باقی نہیں تھا۔ اس روز انہیں جو قانونی صلاح دی سو دی، مگر تعلیمی اداروں میں گروپ سٹڈی اور نوٹس کے تبادلے کے پسِ پردہ پروان چڑھتی محبتوں کی حقیقت مزید روشن ہو کر سامنے آ گئی۔ حقیقت یہی ہے کہ نا محرم محبتوں کا یہ زہر بہت تیزی سے نوجوان نسل میں سرائیت کرتا چلا جا رہا ہے اور اس کا انجام ماسوائے تباہی و بربادی کے اور کچھ نہیں ہے۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا حیاء تمام تر خیر ہے۔ مزید فرمایا کہ جب اللہ تعالی کسی کو ہلاک کرنا چاہے تو اس سے شرم و حیاء چھین لیتا ہے۔ محسنِ انسانیت کے ان ارشادات کی روشنی میں آج ہمیں اپنے احوال کا جائزہ لینے اور اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج ہم شرم و حیاء سے عاری ہیں تو ہلاکت کی طرف ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ آگ کسی کی سگی نہیں ہوتی، جب جلتی ہے تو اپنے ساتھ سبھی کچھ راکھ بنا ڈالتی ہے۔ اگر شر کی یہ آگ ہمارے ذریعہ سے معاشرے میں پروان چڑھے گی تو بلاشبہ یہ آگ ہم تک پہنچنے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگائے گی۔ سوچ لیجئے اور سنبھل جائیے۔ مجموعی طور پہ مملکتِ پاکستان و ساری مسلمان قوم اور خصوصیت سے نوجوان نسل کو اِن نا محرم محبتوں کے خمار سے نکال کر علمیت و کردار سے مزین کرنا از حد ضروری ہے۔ کیونکہ ملک و قوم کے مستقبل میں اجالوں یا تاریکیوں کا انحصار نوجوان نسل کے اجلے کردار یا تاریک احوال پہ ہوتا ہے اور تاریخ نے یہ بارہا دکھلایا ہے کہ بے داغ جوانِیاں ہی روشن مستقبل کی ضامن ہیں۔
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

از قلم: اسامہ شہزاد چیمہ
رکن اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پنجاب

By | 2021-02-14T13:47:25+00:00 February 14th, 2021|articles|0 Comments

Leave A Comment