حکومت کا آئندہ بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ گزشتہ سال سے کم کر کہ 65 بلین سے 58 بلین روپے کرنے کی تجویز تعلیم دشمن پالیسیز کا عکاس ہے

حکومت کا آئندہ بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ گزشتہ سال سے کم کر کہ 65بلین سے 58 بلین روپے کرنے کی تجویز تعلیم دشمن پالیسیز کا عکاس ہے.
حکومت سےایچ ای سی  نے 117 پبلک یونیورسٹیز کیلیے سالانہ 103بلین روپے کا مطالبہ کیا, لیکن حکومت کی عدم دلچسپی پاکستان کے تعلیمی مستقبل پہ سوالیہ نشان ہے.
آئین پاکستان کے مطابق ہر شہری کو معیاری تعلیم فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے.
راجہ عمیر
ترجمان اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان
تعلیم ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے, لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کے شعبہ کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا. امسال ایچ ای سی  کی طرف سے وفاقی حکومت کو 117پبلک یونیورسٹیز کیلیے 103بلین روپے بجٹ مختص کرنے کی سفارش کی گئی جسے مسترد کرتے ہوئے حکومت نے صرف 58بلین روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے جو گزشتہ سال سے بھی 7بلین روپے کم ہے. گزشتہ سال بھی ایچ ای سی  نے 82.5بلین روپے مختص کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے 65 بلین روپے ادا کیے,یوں خسارہ کو کم کرنے کیلیے جامعات میں فیسوں میں اضافہ کیا گیا اور آمدہ بجٹ کے بعد بھی 45بلین کے خسارہ کو کم کرنے کیلیے بے تحاشہ فیسوں میں اضافہ کا خدشہ ہے , جو غربت کی ماری عوام پر بم گرانے اور نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کرنے کا سبب بنے گا.
لہذا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ بجٹ میں تعلیم کے شعبہ کو مطلوبہ وسائل فراہم اور خصوصی توجہ دیتے ہوئے ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرے.

By | 2019-04-16T11:30:35+00:00 April 16th, 2019|Latest News|0 Comments

Leave A Comment