جمیعت کے 73 عظیم سال، حسن شجیع

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو بہتی موج کے سنگ ہی بہہ جاتے ہیں، جو وقت کے جلاد کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں، جو رائج الوقت رسومات میں بندھے ہوتے ہیں، ان کے لیئے دنیوی زندگی ہی سب کچھ ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف کردار کے غازی ہوتے ہیں، جو دریا کے زور کو چیر کر اس کے مخالف بڑھتے ہیں، جن کے سامنے فرعون بھی گھٹنے ٹیک دیتا ہے، جو رائج الوقت باطل رسومات کو چیلنج کرتے ہیں، اور سب سے ضروری ان کے لیئے دنیاوی زندگی بے قدر ہوتی ہے وہ جیتے ہیں تو بس اپنی عاقبت کے لیئے، اس ہی طرح کے صاحب کردار نفوس اللہ کے خلیفہ کہلاتے ہیں، کچھ اس طرح کے مٹھی بھر نوجوانان نے 26 دسمبر 1947 میں اللہ کے دین کی سرفرازی کے لیئے اسلامی جمیعت طلبہ قائم کی، ان کی طلب نا مال و زر کی تھی نا ہی کسی مراعات یا رتبے کی وہ تو بس اپنے رب کے خوف سے، جوابدہی کے خوف سے گھلے جا رہے تھے۔ آج اس عالمگیر دعوت کو73 سال بیت چکے، کروڑوں طلبہ اس دن سے آج تک اس تحریک کے زریعے اپنے رب کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ اور جیسا کہ اس خداداد تحریک کا نصب العین کہتا ہے، اسلامی جمیعت طلبہ انسانی زندگی کی تعمیر ہی اس طرح کرتی یے کہ اللہ زندگی سے راضی ہو، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کسی عمل کا ٹکراؤ نا ہو، دنیا کے معملات میں الجھ کر بھی دامن کو پاک رکھنا اس تحریک کا خاصہ ہے۔ سید مودودی کے یہ جانشین حضور ص کے مشن کی کامیابی کے لیئے قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے، عبدالمالک شہید سے یہ سلسلہ سید طفیل الرحمن شہید پے آکر رکتا ہو، ہاں مگر یہ سلسلہ تا قیامت تمام نا ہوگا، اس کار عظیم کو تو انشااللہ یوم آخر تک چلنا ہے، اللہ کی مدد و نصرت سے یہ جدوجہد گزرتے دن کے ساتھ قوی ہوتی جائے گی۔

By | 2020-12-25T19:35:47+00:00 December 25th, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment