جمیعت نوید سحر۔ ازقلم سمیع اللہ ساسولی۔

جمیعت نوید سحر۔

ازقلم سمیع اللہ ساسولی۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے بارے میں یہ بات مشہور کیا گیا ہے کہ یہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے، اس حوالے سے طلبہ عموماً ابہام کی شکار ہوجاتے ہیں۔
میں بھی انہی طلبہ میں سے ایک تھا جو جمعیت کے حوالے سے ابہام کی شکار ہوتے ہیں ایک طرف باکردار اراکین و کارکنان پر مشتمل جمیعت کے منظم تنظیم شب روز کے طے شدہ اور غیر طے شدہ کرنے کے کام جو دروس قرآن دروس حدیث سٹڈی سرکل طلبہ کے مسائل کے حل جیسے کاموں پر مشتمل ہیں۔
دوسری طرف یہ حقیقت بھی دیکھنے سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کہ جمعیت والوں کے اور کسی گروپ سے لڑائی ہوئی تو جمیعت نے صحیح اسکی پٹائی کی۔
یہ وہ تضاد ہے جو عموما طلبہ کو ابہام زدہ کرتا ہے، مجھے بھی یہی تضاد نے ابہامات کی شکار کردی اور اس چیز پر سوچنے کو مجبور کردیا کہ جمیعت والے اصلاح اور دعوت الی اللہ اور طلبہ مسائل کے حل جیسے کاموں میں مصروف عمل ہوتے ہیں تو بدمعاشی غنڈہ گردی جیسے کام ایسے لوگوں کا نہ کبھی شیوہ رہا ہے نہ رہے گا جو ایک طرف دین کی داعی ہوں دوسری طرف بدمعاش یہ تو نہ کبھی ممکن تھا نہ ممکن رہے گا۔
اسی سوچ و بچار میں، میں نے جمیعت کی تاریخ کو پڑھنے اور آج کی جمیعت کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی فیصلہ کردی۔
جب تاریخ کو پڑھنا شروع کردیا تو تو جمیعت کے کرنے کے کاموں میں لڑائی جگھڑے مجھے آٹے میں نمک کی برابر نظر آئے۔
میں نے یہ سوچا لڑائی جگھڑے تو کم ہیں دیکھتے ہیں انکے سابقین خصوصا ناظمین اعلیٰ اپنے عملی زندگی میں کیا کر گزرے۔
عموما لڑائی جگھڑے نکمے جیسے لوگ کرتے ہیں ظاہر ہے اپنے تعلیم سے فارغ ہوکر ایسے فضول کاموں میں مصروف عمل ہوں گے۔

جب تاریخ کو پڑھنا شروع کیا تو عجیب دیکھنے کو ملا ڈکٹر اسرار احمد جیسے مبلغ قرآن پروفیسر خورشید احمد جیسے عالمی شہرت یافتہ معیشت دان سید منور حسن جیسے نڈر بیباک مجاہد صفت سیاست دان سراج الحق جیسے سیاست دان جسے سپریم کورٹ نے صادق آمین کے لقب سے نوازا ہے اور انکے علاوہ جتنے ناظمین اعلی ہیں ان میں سے ایک بھی مجھے نظر نہیں آیا جو اپنے عملی زندگی میں ملت اسلامیہ اور ملک قوم کی ایک بے مثال خدمت گار نہ ہو۔

جمعیت کو صحیح جانچنے پرکھنے کے بعد میرے ذہن میں جن اہم سوالات نے جنم لیا وہ یہ ہیں کیا ایک دہشتگرد تنظیم کے سربراہ اپنی عملی زندگی میں مبلغ قرآن بن سکتا ہے؟ کیا ایک دہشت گرد تنظیم کے سربراہ عالمی شہرت یافتہ معیشت دان اسلامی دنیا کے سب سے بڑا ایوارڈ فیصل ایوارڈ لے سکتا ہے؟ کیا ایک دہشت گرد تنظیم جس کی بنیاد جھوٹ اور خیانت پر مبنی ہوتا ہے اس کی سربراہ اپنے عملی زندگی میں ایک صادق امین سیاستدان قرار پاسکتا ہے۔

ایک ذی شعور انسان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ بالکل نہیں، تو پھر میں کیسے بھروسہ کروں کہ جمیعت ایک دہشت گرد تنظیم ہے صرف اس بات پر انحصار کروں کہ جمیعت کے تاریخ میں آٹے میں نمک کے برابر ایسے واقعات ہیں جس میں جمیعت کی دوسرے طلبہ تنظیموں سے تصادم ہوا ہے اور جمیعت نے انکے کی صحیح پٹائی کیا ہے۔

اسکی مثال یہ ہے کہ کسی کمزور انسان نے ایک طاقتور انسان سے پنگا لیا صرف پنگا نہیں لیا بلکہ اسے مجبور کیا کے اس سے لڑائی پر اتر آہے جب وہ لڑا تو اس کمزور انسان کا صحیح ہوش ٹکانے پہ لایا اسکے بعد تماشائی کہنے لگے کے یہ بڑا دہشت گرد ہے جس نے اس کمزور انسان کی صحیح پٹائی کی ہے، میرے نزدیک یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے۔
بلکہ انصاف یہ ہے کہ یہ بات واضح کریں کہ لڑائی کیوں ہوئی وہ کونسی وجوہات تھے جو لڑائی کے وجہ بنے یہ جانے کہ کس نے کس کو لڑائی پر مجبور کیا، ظاہر ہے کہ لڑائی کے اصولیات میں سے یہ بھی ایک اصول ہے کہ جو طاقتور ہوگا وہ جیتے گا۔
اگر کوئی اسلامی جمیعت طلبہ کو اس بنیاد پر دہشت گرد کہتا ہے کہ جمعیت نظریات ایمانیات اخلاقیات یا کہ تنظیمی طور پر دوسروں سے قوی ہے یہ بہرحال سراسر ناانصافی ہے۔

جب صحیح معنوں میں، میں نے جمعیت کو سمجھنے کی کوشش کی تو پتا چلا جمعیت اپنے کارکنان کیلے بالخصوص عام طلبہ کیلے بالعموم ماں کی گود کی حیثیت رکھتی ہے ہر میدان میں طلبہ کی رہنمائی کرتی ہے کامیاب زندگی گزارنے کی سلیقہ سکاتی ہے۔
نماز پڑھنے سے لیکر کلاسز میں حاضری تک اپنے کارکن کی فکر مند رہتی ہے۔
یہ بس چند خصوصیات ہیں جنے میں اجمالا بیان کر چکا ہوں
انہی خصوصیات کو مد نظر رکھ کر میں بلا جھجک کہوں گا کہ جمعیت ہی نوید سحر

By | 2020-12-22T23:20:02+00:00 December 22nd, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment