جمیعت نوید سحر؛ انقلاب صبح ، افتخار احمد

تحریر از افتحار احمد
سابق رکن جمعیت
“جمیعت نوید سحر؛ انقلاب صبح ”
رات کے نیم پہر سردیوں کے موسم میں بالخصوص دسمبر کی راتوں میں میں اگر بندے کو کوئی حاجت پیش آ جائے ۔بستر سے نکلنا اور نکلنے کے بعد مطلوب کام کی طرف جانا اور پھر واپس بستر کی طرف رخ کرنا ۔اس کے درمیان کے کچھ لمحے ہیں جو گویا قیامت سے کم نہیں ہوتے ۔نیند کا تو نام و نشان گم ہو ہی جاتا ہے۔اگلے دو گھنٹے پاؤں گرم کرنے پر لگتے ہیں۔تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے موبائل سکرین پر فیس بک کے استعمال میں مشعول تھا۔انگلی اوپر کے اوڑھ گھمائی تو سامنے چلنے والے اس موضوع کو آنکھوں کے پردے میں محفوظ کرلیا ۔”جمیت نوید سحر انقلاب صبح”
اور میری سوچ کے اجالے مجھے دھکیل کر بہت پیچھے لے گئے تھے۔اتنا پیچھے کہ کالج کا گراؤنڈ اور اس گراؤنڈ میں موجود بہت سارے طالبعلم کے جو قطار در قطار بیٹھے ہیں ۔سورہ “آل عمران “کی تلاوت ہو رہی ہے۔۔ناظم محترم اپنی اسیر گر زبان سے درس قرآن پاک پیش کر رہے ہیں۔ ابھی دو آیات ہی تلاوت ہوئی تھیں۔کے کالج کی مذہب بے زار انتظامیہ سر پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔گویا انتظامیہ کے روپ کو دیکھ کے گراؤنڈ میں بیٹھے سارے بچے اٹھ کر بھاگ جاتے ہیں ۔کیونکہ وہ انتظامیہ اس محبوب دعوت کو اس محبوب تلاوت کو سیاست کا نام دے کردھمکا رہی ہوتی ہے۔ویسے بھی جمعیت مذہب بیزار اور لذت کا سامان ڈھونڈنے والوں کو کھٹکتی ہے۔ اس لئے کہ یہ ان کی انٹرٹینمنٹ کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔بعد ازاں وہاں پر اس دعوت کا علم بلند کرنے والے اس دعوت کو اس دین کو تمام خواہشات کے اوپر عظیم سے عظیم تر ٹھہرانے والے محض چار سے پانچ افراد کا ایک گروہ بچ جاتا ہے۔۔ناظم صاحب قرآن سینے سے لگائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ انتظامیہ با آواز بلند نعرہ بلند کرتی ہے کہ آپ کو تمیز نہیں کہ آپ کے پرنسپل آپ کے سر پر کھڑے ہیں اور آپ بیٹھے ہیں احترام میں اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔اس کے جواب میں اطمینان؛ سکون؛ ہمت؛ حوصلہ؛ محبت و شفقت اور بہت سارے احساسات سے بھرا ہوا یہ جواب گونجتا ہے کہ نہایت معذرت کے ساتھ سر میں اس قرآن سے بڑھ کر کسی چیز کو اتنی اہمیت نہیں دے سکتا میری نظر میں یہ قرآن پاک تمام تر چیزوں سے محبوب ہے۔
پہلی دفعہ مجھے فخر محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ ان پانچ افراد کے گروہ میں میں بھی شامل ہوتا ہوں۔میری سوچ کے بے ترتیب پھول وہاں سے کھلنا بند ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ اس سے پہلے میں ایک منتشر اور بکھری ہوئی فضا میں سانس لے رہا ہوتا ہوں۔یہ کون لوگ ہیں یہ کہاں سے `آئے ہیں۔یہ کس دعوت کا پرچار کر رہے ہیں۔کیا انکو ڈگریاں عزیز نہیں۔کیا یہ نوجوان نہیں۔کیا انکے مستقبل کے سہانے خواب نہیں۔میی یہ سب سوچ ہی رہا ہوتا ہوں کہ گارڈ کو بلایا جاتا ہے اور ناظم صاحب کو کئی اور ساتھیوں سمیت ادارے سے باہر نکال لیا جاتا ہے۔مجھے دکھ بھی ہوتا ہے اور حیرانی بھی کیونکہ یہ حادثہ انکے چہرے پر بکھری مسکراہٹ کو ختم نہیں کر پاتا یہ حادثہ انکے ارادوں کو کمزور نہیں کر پاتا۔
جی ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معلومات کرنے پہ پتہ چلتا ہے کہ یہ گروہ تو اسلامی جمیعت طلبہ کے با کردار نوجوانوں کا ہے کہ جو اس بات کے قائل ہیں۔یقیی محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم جو اس بات کے قائل ہیں کہ اس زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی میں اسی لیے مسلمان میں اسی لیے نمازی۔
جمعیت کی قربانیوں کی تو ایک لمبی داستان ہے ۔چاہے وہ حب وطنیت ہو یا معرکہ جنگ آزادی ہو۔انسان دوستی ہو یا نظریاتی مخاز پر دلیل کے ساتھ شکست دینی ہو۔لیکن میرے سامنے یہ پہلا حادثہ تھا کہ جب میں نے اپنی آنکھوں سے اس دین کے نام پر کسی کارکن کو ایکسپل ہوتے دیکھا تھا ۔اور استاد کے احترام کو بروئے کار لاتے ہوئے سر جھکائے کالج سے باہر نکل جاتے ہیں۔اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ استاد کی ہر حال میں تکریم کریں گے۔
میں نے سراغِ زندگی پا لیا تھا اب ان باکردار اور دلیر محب اسلام دوستوں سے عمر بھر کے لیے جڑنا تھا۔
کالج کے باہر دو دوستوں کے ہمراہ ایک ہوٹل میں ناظم صاحب کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔۔چائے کے کپ کے ساتھ بہت ساری باتیں نہیں ہوئیں بلکہ ایک داستان مکمل ہوئی۔چائے خود ایک افسانہ ہے اور افسانے کے ساتھ بہت سے افسانے بن ہی جاتے ہیں۔اس چائے کا شکریہ کوئی کیوں نہ ادا کرے کہ جس کہ بل بوتے پر آپ کو ایک جانشین ملتا ہے ایک فکر ملتی ہے۔اور سب سے بڑھ کر دنیا کی سب سے مہنگی چیز کسی کا وقت ملتا ہے ۔
گفت و شنید ہو ہی رہی تھی کہ ایک ساتھی نے بات کاٹ کر سوال کیا کہ ناظم صاحب آپ کا مقصد کیا فقط تعلیمی اداروں میں ہی اسلام کا جھنڈا لہرانا ہے ۔باقی سارے اسلام کے اصولوں اور نظریات سے واقف ہو چکے ہیں۔اسکا جواب کافی طوالت سے بھرا ہوا تھا اور وضاحت کی ضرورت بھی تھی۔
“دراصل پاکستان وہ واحد ملک ہے جو 55سے 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور کسی بھی معاشرے میں نوجوان ہی وہ طبقہ ہوتا ہے جو اس معاشرے میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے انہی پر کسی ملک کی بنیادیں استوار کی جاتی ہیں۔چاہے نظریاتی مخاز ہو یا جنگ کا میدان ہو ؛علم کا میدان ہو یا سائنس اور ٹیکنالوجی کا؛حلقہ یاراں ہو یا دشمن کا سامنا ؛بیوروکریسی ہو یا ملک مافیا ؛فکری سرحدات کا تحفظ ہو یا ملک امن دوستی کی سرحد۔ عرض کوئی بھی شعبہ ہو ہماری نوجوان نسل نے ہی اسکو چلانا ہے اسکا معمار بننا ہے۔لیکن یہ طالب علم ایسے اداروں سے نکلتے ہیں جہاں مخض صفحہ قرطاس سے بنی ایک رسید ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے۔اور کہا جاتا ہے جاؤ اور ٹوٹ پڑو تمھارا مقصد پیسہ کمانا ہے ذریعہ چاہے جو بھی ہو ۔اخلاقیات اور رویے جو اس تعلیم کے متضاد تو نہیں ہوتے بلکہ عمازی کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ جس طرزِ کا نظامِ تعلیم ہے وہ فقط ڈگری ہولڈر تو بناتا ہے لیکن تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی۔ اور قصور ایک طالب علم کا ہے ہی نہیں کیونکہ اسکو ماحول ایسا ملا ہوتا ہے۔ جہاں وہ اپنے شوق پورے کرے یا اخلاق سنوارے ؛وہ عشق اور معشوقی کی داستان رقم کرے یا اپنے ماں باپ کی امیدوں پہ پورا اترے ؛وہ استاد کی عزت کرے یا استاد کی چاپلوسی کرے کیونکہ احترام اور عزت دو الگ چیزیں ہیں۔۔نمبروں اور اگریگریڈ کے حصول کے لیے جو عزت دی جاتی ہے اسے اخترام نہیں بلکہ چاپلوسی کہا جاتا ہے۔۔ایک طالب علم جس کی ترجیحات ہی کچھ اور ہوتی ہیں ادارے کی رنگینی اور حسن زن کا وجود اسے ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے ۔گویا وہ کلاس میں اپنے محبوب استاد کا لیکچر سن رہا ہوتا ہے لیکن اس کا دھیان پھول کے کسی باغیچے میں یا شعر کے کسی مصرع پہ اٹکا ہوا ہوتا ہے ۔۔اسکی خواہش ہوتی ہے کہ کلاس ختم ہو اور وہ کسی دوشیزہ کا ہاتھ تھامے اور مافوق الفطرت دنیا میں گھم ہو جائے۔اسکا لائف سٹائل،اسکی ڈریسنگ،اسکے نظریات غرض ہر چیز سے اسکے ادارے کی تربیت جھلک رہی ہوتی ہے۔جب معماران قوم پرستان کی سیر کر رہے ہوں تو طلبہ تو انہی کے مقلد ہوتے ہیں۔۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آج کی نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے پیچھے کچھ معماران قوم کا ہاتھ ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔ نظریات کا میدان ہو یا نت نئے فیشن کو قبول کرنے کا، دین بے زاری ہو یا اسلام سے گلے شکوے،خدا کے تصور پہ سوال ہوں یا میرا جسم میری مرضی ہر ایک عمل میں انکا نمایاں کردار ہے بلکہ یہاں تک کے استاد محترم اپنے شاگردوں کو اس لئے بھی غلط حرکتوں سے نہیں روک رہا ہوتا کیونکہ من و عن وہ خود بھی اس کاوش میں برابر کا شریک ہوتا ہے ۔اتنا ہی نہیں بعض شاگرد اور استاد آپس میں ہم رقیب کے طور پر سامنے آتے ہیں۔۔۔کلاس میں بیٹی اور بیٹا کہنے والے شاگرد جو اس بات پہ بلیک میل ہو رہے ہوتے ہیں کہ انکی بات نہ مانی گئی تو انکا جی پی اے کم آ جائے گا۔انکا ریسرچ ورک لیٹ ہو جائے گا ۔جن اداروں میں استاد کی یہ حالت ہو وہاں سے تربیت پانے والا فرد کیا قوم۔کا مستقبل بنے گا ہاں مستقبل تو وہ ہے ۔۔ملک کو تباہ کرنے میں ،اپنی تہذیب اور اقدار کا گلہ گھونٹنے میں؛اسلام اور مسلمانیت کے نام پر سیکولرزم اور لبرلزم کو فروغ دینے میں،مذہب بیزاری اور اسکے متضاد نظریات کا پرچار کرنے میں، حلال کے حلاف حرام کا دفاع کرنے میں،ہاں مستقبل تو وہ ہیں۔جب ایسے نظام سے نکلنے والا ایک طالب علم اس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالتا ہے۔۔۔تو اسکا نظریہ مخض بنگلہ، گھر، بیوی بچے اور پیسے تک محدود ہو جاتا ہے۔ان سے اس ملک کی حفاظت اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدو جہد تو دور کی بات ہے وہ اپنے 5سے 6فٹ بدن پر بھی اسلام کا نفاذ نہیں کر پاتا ۔یہ اسلامی جمیعت طلبہ ہی ہے جو تعلیمی اداروں میں مذہب بیزار، عیاش پرست، ہوس پرست انتظامیہ کے سامنے ہتھیار بنی ہوئی ہے۔یہ اسلامی جمیعت طلبہ ہی ہے جو فحش اور بدبودار نظریات کا مقابلہ کر رہی ہے۔جو مادیت پرستی کے اس دور میں بھی مادیت پرستی اور انتہا پسندی سے اپنا دامن بچائے ہوئی ہے۔۔یہ اسلامی جمیعت طلبہ ہی ہے جو میوزیکل نائٹ اور فن فیئر اور کپل ڈانس کی جگہ آج کی نوجوان نسل کا تعلق اللہ سے جوڑنے کے لیے قرآن نائٹ کا اہتمام کر رہی ہے۔یہ اسلامی جمیعت طلبہ ہی ہے جو دوسروں کے ہاتھ میں لو لیٹر، شاعری اور ناول کی کتاب کے بجائے قرآن اور حدیث تھما رہی ہے۔جو تاریخ کی اقدار روایات اور حقیقی مقصد سے روشناس کروا رہی ہے۔۔جو انسان دوستی محب وطن اور محب اسلام بنانے کے لیے ہر لمحہ کوشاں عمل ہے۔۔جمعیت کا مقصد محدود مقصد نہیں بلکہ ستاروں سے آگے کی وسعتوں کو چھونے والا ہے۔۔۔اور واقعی اسلامی ریاست، خلافت انہی نوجوانوں کے ذریعے ہی ممکن ہے بلا جن کے ہاتھ اور پاؤں لڑکھڑا رہے ہوں وہ بلا کیا انقلاب لائیں گے۔یہ جمعیت ہی ہے جس جس نے نت نئی روایات کا وجود عمل میں لایا واقعی جمعیت ایک نیو ٹرینڈ سٹر ہے۔کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے کتاب میلے کا انعقاد، قابلیت اور صلاحیتوں کی داد رسائی کے لیے ٹیلنٹ ٹریبیوٹز کا انعقاد۔ادارے سے فولنگ کا کلچر ختم کر کے ویلکم کیمپس کا انعقاد ویلکم پارٹیز کا انعقاد ،استاد کے مقام اور مرتبہ کا تعین کرنے کے لیے ہفتہ تکریم اساتذہ ،مختلف نظریات سے واقفیت کے لئے سٹڈی سرکل اور گروپ ڈسکشن فورم کا انعقاد، ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے گیمز کا انعقاد، بلاشبہ جمعیت نے ان تعلیمی اداروں کو بہت ساری روایات دی ہیں۔ایک کردار دیا ہے کہ جس کا اقرار مخالف قوتوں نے بھی کیا ہے۔۔ہماری قوم کی بیٹی جس کو مخض ٹشو پیپر اور ناجائز رشتوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔جن کے سر سے دوپٹا اتارنے کی خواہش ہوتی ہے ۔تعلیمی اداروں میں اسلامی جمیعت طلبہ نے قوم کی عزت قوم کی بیٹی کی محافظت کی ہے۔۔انکے سر پر ہاتھ رکھا ہے ۔اور جب انٹرویو میں ایک باپ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی بیٹی آج کے اس ماحول میں محفوظ ہے تو اس کا جواب جو محالفت کر نے والوں کے منہ پہ تمانچے کا کرتا ہے، کہ اسلامی جمعیت طلبہ کی موجودگی میں مجھے فکر کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سب سے بڑی محافظ ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں بھی اسلامی جمعیت طلبہ نے قطب شہید، حسن البنا شہید، طیب اردوان، میاں طفیل ،خرم مراد، منور حسن ،قاضی حسین احمد، حافظ نعیم الرحمن ،عبد الرشید ،ڈاکٹر اسرار، ڈاکٹر قدیر اور اس جیسے کئی ہزار ہیروں کو تراشا ہے ۔جنہوں نے اپنی زندگی کو اللہ کی رضا اور اقامت دین کے لئے وقف کیا ہوا ہے ۔اسلامی جمعیت طلبہ نے مختلف محاذوں پر اپنے سروں کی فصل پیش کی ہے چاہے وہ تعلیمی محاذ ہو، نظریاتی محاذ ہو یا پھر ہماری سرحدات کے تحفظ کی بات آئے۔۔بلاشبہ جمعیت ہی ہے جو نوجوان نسل کی آخری امید ہے ۔جو اپنا سب کچھ اس مقصد کے حصول کے لیے وقف کی ہوئی بے۔۔۔نوید صبح بھی یہی ہے اور انقلاب کی بھی ضمانت ہے۔۔۔۔۔۔باتیی ابھی جاری تھیں کے ناظم صاحب کو ضروری کام کے سلسلے میں جانا پڑا ۔وہ دن کے ہم اس تحریک کے ساتھ ایسا جڑے کہ بس جڑ ہی گئے۔
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

تحریر از افتحار احمد

سابق رکن جمعیت

By | 2020-12-23T19:36:40+00:00 December 23rd, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment