جمیعت نوید سحر،انقلاب صبح از قلم احمد عبداللہ

جمیعت نوید سحر،انقلاب صبح

از قلم احمد عبداللہ
اسلامی جمیعت طلبہ سے پہلی واقفیت اس وقت ہوںٔی کے جب ہم نے ہوش سنبھالا۔کیونکہ والد صاحب جمیعت کے رکن رہے تھے اور اکثر و بیشتر گھر میں جمیعت کا ذکر خیر ہو ہی جایا کرتا تھا۔پھر جب تھوڑے بڑے ہوںٔے تو تعلیم و تربیت،ہمقدم،ترجمان القرآن،دینیات،شہادت حق وغیرہ جیسے رسالے اور چھوٹی چھوٹی کتب والد صاحب نے نہ صرف لا کر دیں بلکہ باقاعدہ پڑھاںٔیں بھی۔
لیکن!ساتھ ہی ساتھ تعلیم سٹی پبلیک اسکول اور آرمی پبلیک سکول وغیرہ سے حاصل کی جا رہی تھی۔جہاں کہ اسلام صرف اور صرف ایک کورس “اسلامیات” کی حیثیت سے پڑھایا جاتا تھا اور جاتا ہے۔لیکن طلبہ اسلامی تشخص اور اسلامی نظریات و افکار سے کوسوں دور تھے۔
اور شاید میں بھی اسی Flow کا حصہ بنتا جا رہا تھا۔۔کہ طیب عباسی بھائی جو کہ بارہ کہو اسلام آباد کے ایک رہائشی یونٹ کے ناظم تھے،ان سے والد صاحب نے ملاقات کراںٔی اور جمیعت کا باقاعدہ تعارف ہوا۔۔لیکن شاید کیوں ذہن ایسا سوچتا تھا کہ یہ جمیعت والے اتنے old fashioned اور مولوی ہوتے ہیں اور ویسے ہی بس نارے مارنے کے شیداںٔی اور انقلاب انقلاب کی رٹ لگائے۔۔بس ٹاںٔم پاس کر رہے ہیں۔۔
طیب بھائی کی بے پناہ کوششوں کے باوجود میں رفیق نہ بنا اور پھر کچھ ہی عرصے بعد ہم بارہ کہو سے اسلام آباد کے ایک سیکٹر بی-17 منتقل ہوںٔے اور والد صاحب کی مجھے جمیعت سے وابستہ کرنے کی کوششیں اور میری جمیعت والوں سے دور بھاگنے کی کوششیں جاری رہیں!!
بہرحال یہاں کے مقامی نظم سے میں منسلک 11وی جماعت میں تب ہوا کہ جب میں ایک سہ روزی تربیت گاہ میں گیا اور جمیعت کی اس خوشگوار اور ایمان آفروز اجتماعیت کو خود دیکھا،سجھا اور محسوس کیا۔
اس کے بعد سے اب تک،قریب قریب 3 سال ہونے والے ہیں،جمیعت کو سمجھ کر اس کے ساتھ جڑ کر وہ کچھ سیکھا اور سمجھا کہ زندگی گزارنے کا مقصد مل گیا اسی مقصد اور ساری زندگی اپنے ساتھ لے کر چلنے میں عجب اپنایت اور لطف محسوس ہوتا ہے۔
اور میں اب اس بات پر مکمل طور پر convinced ہوں کہ اس شتر بے مہار کے معاشرے میں
“جمیعت نوید سحر،صبح انقلاب”ہے۔۔
جو نوجوانوں کو زندگی گزارنے کا ایک مقصد اور نظریہ فراہم کرتی ہے اور اسلام پسندی کو فروغ دیتی ہے۔۔اور یہی معاشرے کی اصلاح کا واحد ذریعہ ہے!!
اللہ اس بابرکت سایے کو ہم پر ہمیشہ برقرار رکھے!!آمین

By | 2020-12-23T22:17:07+00:00 December 23rd, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment