جمعیت! قربانی و ایثار کی لازوال داستاں، راؤ اسامہ منور

آج صبح سے جمعیت میں گزرا پچھلا سال آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے، تعلیمی سیشن کا آغاز ہوا تو طے ہوا کہ نئے آنے والے طلبہ کی مدد اور رہنمائی کے لیے داخلہ کیمپ لگایا جائے گا، رمضان المبارک کے دن، سخت گرمی، روزے رکھے ہوئے، اسی حالت میں صبح صبح ناظم صاحب کے حکم پر کیمپ پہنچ جانا اور سارا دن ان لوگوں کے کام آنا جن سے ہمارا نہ کوئی تعلق نہ واسطہ، اور نا ان سے کسی صلے کی تمنا، سینکڑوں طلبہ جنہیں یونیورسٹی کے پیچیدہ سسٹم میں داخلے کا طریقہ کار ہی معلوم نہ تھا وہ اس سے مستفید ہوئے…
یہ کیمپ ختم نہیں ہوا تھا کہ ٹیسٹ کی تیاری کے لیے کیمپ لگانے کا عندیہ دیا گیا، پروفیسرز سے رابطے، دوردراز سے تیاری کیمپ میں آئے ہوئے طلبہ کے لیے رہائش اور کھانے کا انتظام، ان کو نوٹس اور گزشتہ پیپرز فراہم کرنا، جس ساتھی کو دیکھو کسی نا کسی کام میں مصروف ہے اور اپنے آرام و آسائش کا خیال کیے بغیر لگا ہوا ہے خدمتیں کرنے…

یہ کیمپ وغیرہ ختم ہوئے تو ‘خوش آمدید مہم’ چل پڑی، طلبہ کو کلاسز میں جا جا کر خوش آمدید کہنا، تعلیمی بلاکس کے سامنے ویلکم کرنا اور پھر ایک بڑی ‘ویلکم پارٹی’ کا اہتمام، اس کے انتظامات میں بھی کئی دن لگے، سرمایہ لگا، پوری ٹیم کی محنت اور وقت خرچ ہوا.
کس لیے؟ بس جی نئے طلبہ یونیورسٹی کے ماحول میں ڈرے ہوتے ہیں فولنگ وغیرہ کا بھی چکر ہے تو انہیں خوش آمدید کہا جائے تاکہ ان کا ڈر ختم ہو اور جمعیت کی طرف سے دی گئی محبت ان کا اعتماد بحال کرے.

طلبہ تک اپنی محبت کا پیغام پہنچانے کے بعد کہا گیا کہ اب ایک بڑی قرآن کلاس کی جائے تاکہ لوگوں کو قرآن کے قریب کیا جائے، اس مقصد کے لیے بھی دن رات ایک کر کے لاکھوں روپے اکٹھے کیے گئے، قابل مدرسین کو مدعو کیا گیا، اس کام میں بھی سارے کے سارے لوگ بھرپور طریقے سے شامل رہے اور شب و روز کی محنت سے پروگرام کرانے میں کامیاب ہوگئے.

پھر کچھ عرصہ پہلے ایجوکیشن ایکسپو کے نام سے میلہ سجایا گیا کہ یونیورسٹی تو طالبعلموں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا کوئی پروگرام کرنے کی زحمت کرے گی نہیں، لہذا یہ کام بھی جمعیت نے کیا، ایک ماہ پہلے ہی تیاریاں شروع ہوگئیں، پہلے پلاننگ اور پھر پلاننگ پہ عمل درآمد کی کوششیں، کوششیں بھی ایسی کہ دیکھنے والے حیران ہوئے جارہے ہیں، بھاگ دوڑ لگی ہوئی ہے، اپنا دن اور رات ایک کیا ہوا ہے، دن اور رات ایک کرنے کا مطلب پتا ہے؟ جی ہاں صحیح معنوں میں دن رات ایک.. نہ کھانے پینے کی ہوش نہ اپنے آرام کا خیال، بس لگے ہوئے ہیں کہ جو ذمہ داری دی گئی ہے احسن انداز میں پوری کرلیں کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے. بالآخر یہ مرحلہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچا.

اس دوران سال بھر کے اندر طے شدہ دروسِ قرآن، دروسِ حدیث، مختلف تعلیمی موضوعات پر سیمینارز، تعلیمی ٹورز، طلبہ مسائل کے حل کی جدوجہد اور ایسے کئی کام ساتھ ساتھ چل رہے تھے.

اب بھی لکھتے ہوئے یہی سوچ رہا ہوں کہ ہماری قوم اور اس کے نوجوان کیسے ہیں؟ مطلب یہ 1947 سے آج تک دی گئی قربانیوں سے واقف ہیں، ان کے ساتھ جو بھلائی اور اچھائی کی جاتی ہے وہ بھی جانتے ہیں، جن تعلیمی اداروں میں جمعیت ہے وہاں یہ اپنا ہر تیسرا مسلہ لے کر جمعیت والوں کے پاس پہنچے ہوتے ہیں…
لیکن جب بھی کڑا وقت آتا ہے یہ دور جا کھڑے ہوتے ہیں، جمعیت والے بھی انہی کی طرح کے انسان ہیں، انہی کی طرح تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، ان کے بھی والدین اور بہن بھائی ہوتے ہیں جن کی امیدوں کا یہ محور ہوتے ہیں، انہیں بھی زندگی کے رنگ اچھے لگتے ہیں، ان کا بھی دنیا کی طرح زندگی جینے کا جی چاہتا ہے، لیکن بس ایک اللہ کی خوشنودی اور دل میں دوسروں کے لیے دردِ دل رکھنے کی وجہ سے قربانی پہ قربانی دے کر یہ جیے چلے جارہے ہیں.

یہ سوچ بھی ساتھ ہی ذہن میں چل رہی ہے کہ میڈیا کو کیا تکلیف ہے ہم سے بھلا… اس کا ہم نے کیا نقصان کیا ہے، یہ جو اتنے اتنے بڑے پروگرام کراتے ہیں ان کا تو ایک پیکج چلاتے یہ مرے جاتے ہیں لیکن کوئی منفی بات ہو تو اسے مرچ مصالحے سمیت پھیلانا یہ اپنا فرض کیاں سمجھتا ہے، جمعیت کی ہزاروں اچھائیاں انہیں نظر ہی نہیں آتیں یا جان بوجھ کر اندھے بن جاتے ہیں.

سوچتے سوچتے ہاتھ اٹھائے اور فریاد لبوں سے نکلنے لگی.
اے میرے مالک! تو جمعیت والوں کو بھی جانتا ہے ان کے دشمنوں کو بھی، تو نیتوں سے بھی واقف ہے کہ کون تیرے لیے کام کررہا اور کون شیطان کا پیروکار بنا ہوا ہے، بس میرے اللہ… اب اچھے دن دکھا دے، سالوں کی قربانیوں کا صلہ دے دے، میرے مولا اپنے بندوں کی اچھائی دنیا کے سامنے لے آ… آخر کب تک یہ بیچارے یونہی رسوا ہوتے رہیں گے، کب تک دنیا انہیں ان کی ساری قربانیوں کے باوجود دھتکارتی رہے گی، کب تک یہ بےثمر جدوجہد کرتے رہیں گے، بس جو آخرت کا صلہ تو نے دینا ہے وہ تو ضرور دیجیو لیکن اس دنیا میں بھی ایک دفعہ انہیں ضرور سرفراز کردے…
ہم تو فریاد ہی کرسکتے ہیں، بس تو ہماری سن لے اور قبول فرما..

راؤ اسامہ منور

رکن اسلامی جمعیت طلبہ بہاولپور

By | 2020-12-24T19:45:24+00:00 December 24th, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment