جمعیت، دور حاضر میں طلبہ کی اشد ترین ضرورت کیوں؟ محمد اویس منیر، کراچی

جمعیت، دور حاضر میں طلبہ کی اشد ترین ضرورت کیوں؟

محمد اویس منیر، کراچی

ملک خداداد پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے 74 برس گزر چکے۔ ان تہتر برسوں میں یہ ملک کئی اندوہناک حادثات، لرزا دینے والے واقعات، سیاسی بحران،مبینہ تعلیمی نظر اندازی اور غیر دانشمندانہ اقدامات کی بھرمار کے باعث ملک دشمن عناصرین کی آمجدگاہ بن چکا تھا۔۔ ان تہتر برس کئی ایسے بھی واقعات پڑھتے اور سنتے رہے جس پر دل جھوم کر خوشی کے گیت گانے لگتا۔۔ اور کچھ المناک قصےبھی جو قلب کو چھلنی کر ڈالتے۔۔

میری عمر اٹھارہ برس ہے اور فروری کے اخیر تک میرا جسم انیس برس پرانہ ہوجائے گا۔۔ ان گنتی کے چند عرصوں میں وہ دور زیادہ دور نہیں جب کراچی شہر کا تقدس چند عناصرین کے زیر نگیں نظریاتی اندھیروں میں ڈوبا بمشکل ہچکولے کھاتا نظر آیا کرتا تھا۔۔ انسانوں کی بستی سکوت کی وادی کا منظر نامہ بیاں کررہی ہوتی۔ بوری بند لاشیں تو شہر کی پہچان بن چکی تھی۔ یہ تحریر لکھتے وقت وہ ماضی یاد آرہا ہے۔ جب آئے روز محلہ کی مسجد کسی نہ کسی بنی نوع انساں کی اعلانِ رحلت سے گونج رہی ہوتی۔ اس دور میں جس نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا وہ تھی” اسلامی جمعیت طلبہ”

میں وہ ماضی یاد نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ماضی جسےمیں بھولنے کی سعی ناتمام کوششیں کرچکا ہوں۔ لیکن یہ ماضی جب بھی یاد آیا، ہر بار مجھے اک نئی امنگ دلاجاتا۔
انہیں کٹھن حالات میں جمعیت نے جو ثابت قدمی دکھائی وہ ناقابل بیاں ہے۔ اس تنظیم نے مجھے چودہ سو سال قبل کے ماضی سے جوڑ رکھا ہے۔ اکتساب نور وہیں سے ہورہا ہے یہ تنظیم چراغ کی حیات آفریں سے حال و مستقبل کی گزرگاہوں کو روشن کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ یہاں آپ کو جزبات کا سیل رواں بھی ملے گا اور فہم و فراست بھی، خلوص و جزبہ صدق بھی اور پاکیزگی کی مثال بھی۔ یہ وہ چھاؤنی ہے جس کے تلے اسلامی نظریات کی حفاظت اور فحاشی و عریانی کی تیز دھوپ سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔

اس قافلۂ سیل رواں کا آغاز لاہور کی پھول بلڈنگ سے 25 ان اولوالعزم جوانوں کے ہاتھوں23 دسمبر 1947کو ہوا جو نیک نیتی کی دولت سے مالا مال تھے۔ قلب صاف، شخصیت بے شکن اور ہمت و استقلال سے بہرہ مند ان جوانوں کے ہاتھوں بنی یہ تنظیم اب لاکھوں سے زائد فرزندانِ آدم کی تربیت و تجدید کا کام سرانجام دے چکی ہے اور الحمدللہ یہ سلسلہ اب بھی قائم و دائم ہے اور ابد تک رہے گا انشاءاللہ۔ ان پرعزم نوجوانوں کا رستہ روکنے کی کئی چالیں چلی گئی جس کی تفصیل اگر کتابی صورت میں بیاں کی جائے تو کتاب کی طوالت اور ضخامت دیکھنے لائق ہوگی۔ ایک طرف دین بیزار طبقہ تو دوسری طرف قادیانی فتنہ، ایک طرف دیڑھ انچ کی مسجد کی تعمیرات تو دوسری طرف لبرلزم اور سیکیولرزم نظریے کی بہتات۔
کبھی ماؤزے تنگ کے اتباع کو افضل گردانہ گیا تو کبھی کارل مارکس کے پیج کو سینوں میں سجانا سعادت سمجھا گیا۔

ان حالات میں اس بات کی اشد ترین ضرورت تھی کہ اس نوجوان سل کو اس حقیقی دعوت سے روشناس کروایا جائے جو اسلامی ضابطۂ حیات کے لیے تفصیلی ہدایت نامہ رکھتا ہو۔جو روح کے لیے تقویٰ و پرہیزگاری اور جسم کے عملی تقاضوں کو مدنظر رکھتا ہو۔ اسی مقصد کے پیش نظر جمعیت نے اپنے وسیع لیٹریچر کے ذریعے نوجوان نسل کی عقل سلیم اور قلب مضطر کو متاثر کرنے کی کوشش کی جس کی پاداش میں ان نوجوانوں پر ہر طرح کی آزمائشوں کے تیروں کی بارش کی گئی کبھی تعلیمی اداروں کے دروازے بند کردیے گیے تو کبھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کبھی کیریئر کی عدم تحفظات سے ڈرانے کی کوشش کی گئی تو کبھی والدین کو دھمکیوں سے مرعوب کرنے کی چالیں چلی گئی۔ کبھی چہرہ زخمی کیا گیا تو کبھی شہادت کے پھول سجے مگر الحمدللہ میری پیاری جمعیت ان تمام ریشہ دوانیوں کا پہاڑ کی مانند سامنا کیا۔ میری جمعیت اس درختِ کی طرح سر سبز و شاداب رہی جو چاہے سردی کی یخ بستہ تھپیڑیں ہوں یا گرمی کی لہو گرماتی ہوائیں ان تمام موسمی سختیوں کو برداشت کر کے آج الحمدللہ ثم الحمدللہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور و توانا کفر اور ان کے حواریوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنی چوہترویں یوم تاسیس منانے جارہی ہے۔

بے شک ان اسلام مخالف قوتوں کے بارے میں اللہ عظیم الشان نے قرآن عظیم الشان میں ارشاد فرمایا:

وَ یَمۡکُرُوۡنَ وَ یَمۡکُرُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ

وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہترین چال چلنے والا ہے (سورۃ النفال)

اللہ میری پیاری جمعیت کو اسی طرح پھلتا پھولتا شاد باد اور قائم و دائم رکھیں۔ آمین

By | 2020-12-22T23:41:44+00:00 December 22nd, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment