جامعہ پشاور میں جمعیت کے زیر اہتمام صوبہ کا سب بڑا کتب میلہ شروع

جامعہ پشاور میں جمعیت کے زیر اہتمام صو بہ کا سب سے بڑا کتب میلہ شروع
۔جامعہ پشاور پیوٹا ہال میں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام صوبہ کے سب سے بڑے کتب میلہ کا آغاز ہوگیا۔تین روزہ بین الاقوامی پیوٹا ہال کتب میلہ کے پہلے روز کا افتتاح صوبائی امیر جماعت اسلامی سینیٹر مشتاق احمد خان نے کیا ۔ گیارویں کتب میلہ میں ستر سے زائد ملکی و بین الاقوامی اکیڈمیز ،پبلشرز اور کتاب فروش شرکت کررہے ہیں ۔ کتب میلہ میں ترکی اور افغانستان کے سٹالز بھی لگائے گئے ہیں جس ان کی ادب و ثقافت کے حوالے سے کتابیں سجارکھی ہے ۔ کتب میلہ میں طلبہ تین روز تک صبح نو بجے سے شام سات بجے تک دس سے پچاس فیصد رعایتی قیمتوں پر کتب خرید سکیں گے تین روزہ کتب میلہ کے پہلے روز کے افتتاح کے بعد سینیٹر مشتاق احمد خان نے مختلف سٹالز کا دورہ کیا اور کتابوں میں دلچسپی لی ۔ اس موقع ناظم اسلامی جمعیت طلبہ یونیورسٹی کیمپس پشاور شفیق الرحمن ، اقراءیونیورسٹی پشاور فرزند علی جان، ڈائریکٹر پاکستان سٹڈی سنٹر جامعہ پشاور فخرالاسلام ،معتمد جامعہ پشاور سلمان بن احسان ،ناظم جامعہ پشاور عماد نظامی بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ کتاب اور قلم سے بیزاری کے دور میں لوگوںکو کتاب سے جوڑنے کے لئے اس ایونٹ کا انعقاد قابل تحسین ہے اور اسلامی جمعیت طلبہ بھی مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے کتاب میلہ کے لئے بہترین انتظامات کئے ہیں اور اس کے انعقاد کو ممکن بنا یا۔جامعہ پشاور میںیہ میلہ کتاب کے نور کو پھیلانے کی خوبصورت روایت ہے اور یہی لوگ ہی ہمارے سوسائٹی کے اصل ہیروز اور خیر خواہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ علم و قلم کا کارواں اور علم وتحقیق کی مجلس ہے ۔ریاست کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ تمام بحرانوں اور مسائل کا واحد حل ہی تعلیم ہے ۔ترقی کا راستہ نوجوانوں کے اوپر سرمایہ کاری کرنے ،لیبارٹریوں اور لائبریریوں سے گزرتا ہے ۔ تعلیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ریاست تعلیم کے معاملے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے ۔پاکستان اس وقت تعلیم میں 181 نمبر پر ہے ۔ہمارے ملک کی تحقیق کا بجٹ ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔محکمہ تعلیم کا محکمہ گوانتونوبے بن چکا ہے جس کو کوئی بھی وزیر برضاورغبت قبول کرنے پر راضی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے محکمہ کے لئے وزیر کی بجائے مشیروں کی تعیناتی ہوتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ سیاستدانوں پر کیچڑ اچھانے اور ان کو بدنام کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔جب تک ملک کی ترجیحات ٹھیک نہیں ہوں گی ملک ترقی نہیں کرے گا ۔ریاست کو اپنے مسائل کی تناظر میں اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ سائنسدانوں اور پروفیسروں کی خدمات کو اجاگر کرنے کی بجائے غیر ضروری چیزوں کا اجاگر کیا جارہا ہے ۔ جامعات کے مالی بحران کے حوالے سے امیرجماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ مالی خسارے کی ذمہ داری انتظامی کمزوری کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے ۔اس وقت ملک کے سات ہزار ارب سالانہ بجٹ میں اعلی تعلیم کے لئے صرف 59ارب کا بجٹ مختص ہے ۔حکومت کے پاس لاہور میٹرو ،جس پر فی کلومیٹر سات ارب روپے لاگت آئی ہے، کے لئے بجٹ ہوتاہے لیکن تعلیم کے پاس ان کے پاس بجٹ نہیں ۔بیشتر جامعات کے مہینوں سے مستقل وائس چانسلرز نہیں ہے جس کی وجہ سے انتظامی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔جامعات میں ہراسمنٹ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہراسمنٹ کسی بھی سورت جامعات میں قابل برداشت نہیں ۔تعلیمی اداروں میں پرامن ماحول کو پروان چڑھانا چاہیئے تاکہ کسی کوکوئی ڈر نہ ہوں ۔انھوں نے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں موجودہ مسائل جیسے مالی خسارہ، ہراسمنٹ اور بدانتظامی طلبہ یونین ہی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہے ۔یونین طالب علموں کا آئینی حق ہے اور اس حوالے سے سینیٹ آف پاکستان نے دو قرادادیں متفقہ طور پر پاس کی ہے ۔طلبہ یونین سیاست کی نرسریاں ہیں ۔طلبہ یونین کی وجہ سے ملکی سیاست سے خاندانی سیاست کا خاتمہ ممکن ہے ۔ حکومت یونین کی بحالی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیں ۔تین روزہ کتب میلہ کے دوسرے سیشن میں صوبائی وزیر بلدیات کامران بنگش نے بھی شرکت ۔ان کے ہمراہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریاض غفور بھی موجودتھے ۔ طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتب دوستی ہی ملک و قوم کی ترقی ممکن ہے ،صوبائی حکومت جلد ہی صوبے میں تمام لائبریوں کو فعال کرے گی ۔سیاسی وابستگی سے بالاتر حکومت اسلامی جمعیت طلبہ کے اس طرھ کے کتب میلوں کو سپورٹ کرے گی تاکہ کتاب کا کلچر عام ہوں ۔ اس موقع پر ناظم یونیورسٹی کیمپس پشاور شفیق الرحمن اور ناظم جامعہ پشاور عماد نظامی نے تمام مہمانان گرامی میں کتابی تحائف پیش کیں۔ تین روزہ کتاب میلہ کے پہلے روز طلبہ وطالبات اور اساتذہ کرام نے خوب دلچسپی لی اور کتاب میلہ کو خوب سراہا ۔ اور اس بات پر زور دیا کہ حکومتی سرپرستی میں بھی اس طرح کتب میلوں کا انعقاد کیا جائے۔

By | 2020-03-04T20:56:01+00:00 March 4th, 2020|Latest News|0 Comments

Leave A Comment