تعلیم دشمن بجٹ کسی صورت بھی قابل قبول نہی, ملک کے ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔ سیکرٹری جنرل جمعیت

تعلیم دشمن بجٹ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں : عبدالرحمان چوہدری
ملک کے ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔ سیکرٹری جنرل جمعیت
لیپ ٹاپ سکیم، فیس ری انبارسمنٹ اسکیم کی واپسی، جامعات کی فیسوں میں کمی، آن لائن تعلیمی نظام میں بہتری
مطالبات پیش
اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمان چوہدری، ناظم صوبہ پنجاب , ناظم لاہور خزیمہ داؤد نے تعلیمی پوسٹ بجٹ
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں تعلیم کا گلہ گھونٹ دیا ہے اور تعلیم کے بجٹ میں کمی حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے،
ملک میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں اور حکومت کی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی، اعلٰی تعلیمی کمیشن نے رواں سال104.289 بلین کی حکومت سے طلب کی تھی اور حکومت نے 70 بلین دینے کا وعدہ کیا تھا۔لیکن بجٹ میں صرف 60.1 بلین روپے رکھے گئے ہیں جوکہ حکومت کی تعلیم دشمنی کا ثبوت ہے۔مزید یہ کہ اعلٰی تعلیمی کمیشن کو ڈویلپمنٹ کے لئے کم از کم 42 بلین درکار تھے لیکن حکومت نے صرف 29 بلین کا بجٹ دیا ہے اس کی وجہ سے نئی کوئی یونیورسٹی بجٹ میں شامل نہیں ہوسکی مزید یہ کہ نئے ریسرچ کے ادارے اور دیگر شعبہ جات کا قیام عمل میں نہیں آسکتا اسلامی جمعیت طلبہ طلبہ ے مسائل نے طلبہ کے مسائل پر مشتمل 6 نکاتی ایجنڈا پیش کردیاجن میں تعلیم کو GDP کم از کم 4%بجٹ دیا جائے، اعلٰی تعلیمی کمیشن کو اس کی ضروریات کے مطابق وسائل فراہم کئے جائیں۔ڈویلپمنٹ کے بجٹ کو بڑھایا جائے۔صوبے تعلیم کے لئے خاطر خواہ بجٹ رکھیں معیار تعلیم اورنظام تعلیم کی بہتری کے لئےاقدامات کریں۔ ڈھائی کروڑ بچے جو سکول سے باہر ہیں ان تک تعلیم پہنچانے کا منصوبہ بنایا جائے۔ اس بجٹ پر ابھی بحث ہونی ہےاور سینٹ میں بھی پیش ہوگا اس لئے اگرہمارے مطالبات نہیں مانے گئے تو ہم احتجاج کریں گے۔

By | 2020-06-15T21:03:34+00:00 June 15th, 2020|Latest News|0 Comments

Leave A Comment