تعلیمی ریفرنڈم طلباء کو بڑے پیمانے میں حقوق طلبہ تحریک سے جوڑنے کی باعث بنے گا۔محمد شجاع الحق بیگ

تعلیمی ریفرنڈم

محمد شجاع الحق بیگ

اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان

پاکستان  کی تخلیق کے وقت سے اس کا تعلیمی نظام بحران  میں مبتلا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غفلت یا سازش کے تحت تعلیم کا شعبہ عدمِ توجہ کا شکار رہا ہے۔  تعلیم کو ہمیشہ سے ضرورت کے مطابق بجٹ نہیں دیا گیا، اس کے لئے موثر پالیسی سازی نہیں کی گئی اوراس کے معیار کو بہتر بنانے کی  سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ تاہم، آج پاکستان جس تعلیمی بحران کا شکار ہوا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ۔ خصوصا اعلیٰ تعلیم کا حصول بالکل بھی ناممکن بنادیاگیا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر طلباء ہوئے ہیں۔ اس لئے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان اس وقت ملک گیر طلباء تحریک چلارہی ہے۔  اس تحریک کا ایک حصہ تعلیمی ریفرنڈم2020 ہے جو طلبہ کو ان کے مسائل سے آگاہی کے ساتھ ساتھ ان کو اس تحریک کے ساتھ بڑے پیمانے پر جوڑنے کی باعث بنے گا۔ اس ریفرنڈم کے مطالبات درجہ ذیل ہیں:

  1. گزشتہ 3 سالوں میں تعلیمی فیسوں میں ہونے والے اضافے کو فی الفور واپس لیا جائے اور تعلیم کا حصول آسان بنایا جائے۔
  2. تعلیمی بجٹ اور جامعات کے گرانٹ میں اضافہ کیا جائے۔
  3. جامعات میں ہاسٹلز ، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات بہتر بنائی جائیں۔
  4. پرائیوٹ جامعات کی لوٹ مار کو قابو کرنے کیلئے ریگولیرٹری اتھارٹی قائم کی جائے جو ان کے معیار ِتعلیم کو بہتر بنائے اور فیس کو کنٹرول کرے۔
  5. تعلیم پر ہر قسم کے ٹیکس کو ختم کیا جائے اور ریاست تعلیم کے فروغ کو اپنی ذمہ داری بنائے۔
  6. میڈیکل کے طلباء پر PMCآرڈیننس کے نام پر جو کالاقانون مسلط کیا گیا ہے اسے فی الفور واپس لیا جائے۔

اب ہم باری باری ان مطالبات کو قدرے تفصیل کے ساتھ پیش کریں گے۔

 

  1. فیسوں میں کمی

تعلیم کی مفت فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہےلیکن پاکستان کے سرکاری جامعات میں تعلیم حاصل کرنا غریب کو تو چھوڑیں، متوسط طبقےکےلئےبھی مشکل ہوگیا ہے۔ دوسری طرف ملک میں تمام قسم کی ملازمتیں اور سماجی مراعات اعلیٰ تعلیم کے ساتھ نتھی ہیں۔ جو جتنی اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کریں، وہ اتنی ہی اچھی پوزیشن میں ہو گا۔ یوں فیسوں میں بے تحاشا اضافے کرکے غریب کے لئے وہ پہلی سیڑھی ہی بند کر دی گئی۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے سرکاری جامعات کی فیسوں میں گزشتہ تین سالوں کے اندر 50 سے 65 فیصد اضافہ ہواہے۔ نتیجتاً،  UNDP (United Nations Development Program) کے مطابق پاکستان میں اعلی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہنے والے طلباء میں 75 فیصد بھاری فیسوں کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ اس لئے ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے تین سالوں کے یہ اضافے فی الفورختم کیا جائے اور فیسوں میں مزید اضافے پر پابندی عائد کر دی جائے۔

 

  1. تعلیمی بجٹ اور اعلیٰ تعلیم کی گرانٹ میں اضافہ

تعلیم اور خصوصاً اعلیٰ تعلیم کا ملکی ترقی میں جو کردار ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ لیکن پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ سے زبون حالی کا شکار رہاہے جس کی بنیادی وجہ تعلیم کے لئے مناسب فنڈ کی عدم فراہمی ہے۔ پاکستان اس وقت تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والے ممالک میں شامل ہے جو اپنی کل قومی پیداوار (Gross Domestic Product) کا صرف 2.4 فیصد تعلیم کے لئے مختص کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی معیارکے مطابق یہ کم ازکم 4 فیصد ہونا چاہئے۔ اس لئے ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ تعلیمی بجٹ میں اصافہ کیا جائے۔

دوسری طرف، موجودہ حکومت نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فنڈز روک کر اس کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ 2019 کی بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کو عمومی بجٹ کے مد میں صرف 59 ارب روپے دیے گئے جبکہ ان کا مطالبہ 105 ارپ روپے کا تھا۔ اور 2020 میں اسکو صرف 64 ارب ڈالر کردیا گیا۔ بجٹ میں کمی کے باعث سرکاری جامعات بحران کا شکار ہیں، ترقیاتی منصوبےرُکے ہوئے ہیں،اساتذہ کو تنخواہیں دینے میں مشکلات ہیں اور طالب علموں کے فیسوں میں بے تحاشا اور بےجا اضافی کیا جا رہا ہے۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ان کی ضرورت کے مطابق گرانٹ دی جائے۔

 

  1. تعلیمی سہولیات

پاکستان میں اعلی تعلیم کے بیشتر سرکاری اداروں میں بنیادی اور ضروری سہولیات بھی مہیا نہیں۔ سرکاری کالجز اور جامعات دونوں میں تعلیم حاصل کرنا نہایت مشکل ہو گیاہے۔ ٹرانسپورٹ، ہاسٹلزاور دیگر تعلیمی سہولیات  کے بغیر حصولِ تعلیم نہایت ہی مشکل ہوتاہے۔ اس لئے حکومت سے مطالبہ ہے کہ تمام سرکاری اداروں میں بنیادی تعلیمی سہولیات کو یقینی بنایاجائے۔

 

  1. پرائیویٹ جامعات کی مانیٹرنگ

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں پرائیویٹ سیکٹر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس وقت اعلی تعلیم کے 35فیصدطلباء پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں پڑھ رہےہیں اور مستقبل میں یہ تناسب اور بڑھ جائے گا۔ لیکن ان جامعات کے معاملات خصوصاً مالی معاملات کی نگرانی کرنے کا کوئی مستقل نظام موجود نہیں ہے،  یہ جب اور جتنا چاہتے ہیں،فیسوں میں اضافہ کر  لیتے ہیں۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ پرائیویٹ جامعات کی اس لوٹ مار کو روکنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرے۔

 

  1. تعلیمی ٹیکسوں کا خاتمہ

ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے ملک کے طلباء کے فیسوں کے اوپر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے۔ پرائیوٹ جامعات کی فیسوں پر  2013 سے%5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس اور ٪2 With Holding Tax  وصول کیا جارہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے تمام قسم کی فیسیں ٹیکس فری کردی جائیں۔

 

  1. PMDCآرڈیننس کا خاتمہ

پاکستان میں میڈیکل کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ طلبہ کا سب سے قابل طبقہ اس شعبے میں چلا جاتاہے،جو پانچ سال کی جان گسل مراحل سے گزر کر تعلیم مکمل کر لیتے ہیں۔ اس عرصے میں جتنی محنت انھیں کرنی پڑتی ہے اور جس امتحانی نظام سے وہ گزرتے ہیں، اسکی معیار کے تو سبھی لوگ معترف ہے۔ لیکن موجودہ حکومت نے ایک آرڈیننس کے تحت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کمیشن کو ختم کر کے پاکستان میڈیکل کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں ایک شق یہ بھی ہےکہ پانچ سالہ میڈیکل کورس ایم بی بی ایس کی تکمیل کے بعد ڈاکٹروں کو ایک اور امتحان پاس ہوگا جس کے بغیر وہ ڈاکٹر تصور نہیں ہوں گے۔ یہ اپنے اس پورے امتحانی نظام پر بھی عدم اعتماد ہےاور میڈیکل کے طلبہ کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔ اس لئے اس آرڈیننس کو روکا جائے۔

 

تمام طلبہ سے اپیل ہے کہ اس تعلیمی ریفرنڈم میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے طلباء تحریک کو کامیاب بنائے۔ 12 نومبر 2020 کو ہونے والے اس تعلیمی ریفرنڈم میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے ایوان اقتدار تک طلباء کی آواز کو پہنچانے حصہ بنیں۔

 

 

 

By | 2020-11-11T14:10:33+00:00 November 11th, 2020|articles, Latest News|0 Comments

Leave A Comment