اسلام آباد سے لاہورکی طرف محوسفرہوں۔ محمد عامر ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ

اسلام آباد سے لاہورکی طرف محوسفرہوں۔۔۔
واپسی کا یہ سفراتنابوجھل اورمشکل توکبھی نہیں رہا، لیکن شاید اس سے بھی مشکل واپسی کا وہ لمحہ تھا جب میں نے طفیل کے والد صاحب کے ہاتھوں میں اپنے ہاتھ دیے اور کہاکہ “ہمیں اجازت دیجئے ہمیں طفیل کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے بہت لمبے سفرپہ روانہ ہونا ہے”
اُس بوڑھے باپ نے جس کا جوان بیٹا تھوڑی دیرپہلے لحدمیں اترچکاتھاکمال محبت سے کہاکہ” میرے طفیل بیٹو تمہیں اس سفرکوجاری رکھناہے”
میں نے کہا”اب تو آپ کے اتنے سارے بیٹے ہوگئے ہیں، اب ہم سب کے لیے دعاکرنی ہوگی آپ کو”
ایک لمحے کے لیے میں نے اُن بوڑھی آنکھوں میں نمی دیکھی لیکن اگلے ہی لمحے عبدالجلال صاحب پہاڑوں جیسی استقامت کے ساتھ گویا ہوئے
“میرے بچو! میری دعائیں ہمیشہ تمہارے لیے ہیں ۔ تم نے قرآن وسنت کی دعوت کے اس سفرکوجاری رکھناہے۔”
یوں ہم اس سید زادے کو اس کے گھرسے تھوڑے فاصلے پر بنی اس لحد میں اتار کرواپس آرہے تھے جہاں اس کا بچپن گزرا تھا۔
میں نے بہت سے جواں سالوں کو اس دنیاسے رخصت ہوتے اور ان کے پیاروں کواُن کی جدائی پر صبرکادامن تھامتے دیکھا ہے لیکن جیسی سکینت میں نے طفیل کے والد صاحب کے چہرے پر دیکھی ویسی کیفیت کا مظاہرہ میں نے پہلی بار کیا کہ کسی باپ کا سب سے لاڈلا بیٹاشہید ہوگیاہو اوروہ صبرکے ساتھ ساتھ اپنے رب کا شکرگزار بھی ہو کہ اُس کی امانت اسی کی راہ میں کام آئی۔
حقیقت یہ ہے اس سانحے پر جس استقامت اور صبرکامظاہرہ طفیل کے گھروالوں کی طرف سے ہوا،اس نے پوری دنیا میں تحریک سے وابستہ ہر غمزدہ دل کوحوصلہ دیا۔
طفیل الرحمن کے بڑے بھائی حمادالرحمن نے بتایاکہ”ہمیں سب سے زیادہ فکروالدہ کی تھی کہ اُن کویہ اطلاع کیسے دی جائے کہ وہ ماں بھی ہے اور طفیل ہمارا سب سے چھوٹابھائی تھا والدہ سے بہت attach تھا۔ لہذا ہم سب بھائی اور والدصاحب اکٹھے والدہ کے پاس حاضرہوئے اور والدصاحب نے والدہ کو بتایاکہ تمہاراطفیل شہید ہوگیاہے تووالدہ فوراً مصلیٰ پر کھڑی ہوگئیں اور رب کی تسبیح بیان کرناشروع کردی۔
۔
اس واقعے کے بعد یہ یقین ایمان کی حدتک مضبوط ہوا کہ یہ سب لوگ رب کے منتخب کردہ ہیں یہ اعزازطفیل جیسے نوجوانوں اور عبدالجلال صاحب جیسے گھرانوں کا ہی ہے کہ وہی اس کے حق دار بھی ہیں اور وارث بھی ۔۔
۔
۔
یااللہ ! توگواہ رہنا،ہماری یہ جدوجہد خالص تیرے ہی لیے ہے۔ توہمیں ثابت قدم رکھنا،تو ہمارا حامی وناصررہنا۔
۔
سورج ڈھل چکاہے ۔۔۔ لیکن سفرجاری ہے۔۔۔۔
۔
باریابی جو تمہاری ہو حضور مالک۔۔
‏کہنا ساتھی میرے کچھ سوختہ جاں اور بھی ہیں۔۔
‏اپنے رستے ہوئے زخموں کو دکھا کر کہنا۔۔
‏ایسے تمغوں کے طلبگار وہاں اور بھی ہیں۔۔!!

By | 2019-12-23T21:03:39+00:00 December 23rd, 2019|articles|1 Comment

One Comment

  1. Saifullah khalid December 24, 2019 at 1:19 am - Reply

    Bhai Allah ki qasam shahadat ki moat qismat walon ko milti hai

Leave A Comment Cancel reply