اسلامی جمعیت طلبہ،پاکیزگی کی علم دار، جمشید منیر سندھو

اعلیٰ نصب العین، بے داغ ماضی اور روشن مستقبل کی نوید اسلامی جمعیت طلبہ اپنے قیام کے 73 برس مکمل کرنے جارہی ہے۔بلاشبہ اسلامی جمعیت طلبہ،طلبہ کی وہ خودمختار تنظیم جو صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کو اپنی طاقت کا سرچشمہ سمجھتی ہے۔اس کا راستہ دائیں اور بائیں کی پگڈنڈیوں کی بجائے توحید کی عظیم شاہراہ صراط مستقیم ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ نے لاکھوں خدایان اسلام تیار کیے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلام کی سربلندی اور امانت و دیانت کا پیکر بنے رہے۔میرا ایمان ہے کہ اگر کوئی غیر جانبدار مورخ اس قوم و ملک کی تاریخ لکھے گا تو اسلامی جمعیت طلبہ کو اس کی محسن آرگنائزیشن کے طور پر لکھے گا۔گو کہ یہ طلبہ تنظیم ہے جس کا دائرہ کار شاید بہت وسیع نہیں ہے۔وسائل کی قلت کا سامنا بھی ہے لیکن طلبہ اور تعلیم کے شعبہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارنامے تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں بلکہ اس ملک میں قومی و سیاسی معاملات میں اسلامی جمعیت طلبہ اپنی بساط سے بڑھ کر
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
کے مصداق رہی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ نے تحریک نظام مصطفی میں بھرپور کردار ادا کیا اور اس عظیم جدوجہد کے راستے میں شاہی قلعہ، کرائم برانچز اور عقوبت خانے اسلامی جمعیت طلبہ کو نہ جھکا سکے اور جمعیت اپنی جدوجہد تیز سے تیز تر کرتی رہی۔عشق مصطفی سے لبریز اور وطن کی محبت میں اپنی جانچھاور کرنے والے،جب وطن عزیز پر مشکل وقت آیا تو ۱۷۹۱ میں سقوط بنگال کے موقع پر اپنے ہزاروں نوجوانوں کی سر کی فصل کٹوا دی۔اسلامی جمعیت طلبہ نے تحریک ختم نبوت کا آغاز کیا اور پھر اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔وہ منظر بھی اس عالم نے دیکھا جب ایشیاء کے ایک کونے سے یکدم بیدار ہونے والا سرخ ہاتھی دنیا کیلئے بے قابو ہوتا جا رہا تھا اور سارے محازوں پر بڑی بڑی قوتوں کو چیلنج کر رہا تھا۔کھوکھلے اور باطل علم اور فکر کا سیلاب جب امڈا تو دنیا میں اس کے مد مقابل مخالف باطل نظریات مات کھا گئے اور وہ سرخ ہاتھی اس خوش فہمی میں تھا کہ دنیا کو تسخیر کرے گا۔لیکن جب اسے اسلامی جمعیت طلبہ اور اس نرسری سے تیار شدہ فکری اور علمی مجاہدوں سے واسطہ پڑا تو مولانا مودودی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی کہ اُس سرخ ہاتھی کو ماسکو اور بیجنگ میں سر چھپانے کی جگہ نہ ملی۔اور ملک خداداد پاکستان میں انہی شکست خوردہ عناصر کیلئے جو پلکیں بچھائے اور نظریں جمائے منتظر تھے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اپنی بقا کیلئے دوسرے لبادے ڈھونڈنے پر مجبور ہوئے اور اسی پر فیض اللہ خان نے لکھا ہے ”سرخوں کو اسلامی جمعیت طلبہ نے وہ فکری اور نظریاتی دھکے دئے کہ لبرلزم کا پاجامہ پہننے کے باوجود پرانے زخم گاہے بگاہے تازہ ہوتے جا رہے ہیں، جمعیت کی کامیابی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہیکہ سرخ نظریات کا پرچار کرنے والے تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے اپنے رنگ بدلتے سرخوں کو دیکھ کر حیران ہو رہے ہیں ”تحریک آزادی کشمیر کے باب میں روز اول سے لے کر آج تک اسلامی جمعیت طلبہ ہر محاذ پہ قربانیاں پیش کرتی آرہی ہے۔سیاسی جدوجہد ہو یا طلبہ میں تحریک کو منظم کرنا اور شعور بیدار کرنا ہو اسلامی جمعیت طلبہ یہ فریضہ بحسن و خوبی سرانجام دیتی رہی اور جب میدان کارزار نے پکارا تو اسلامی جمعیت طلبہ میدان جنگ میں مٹی میں اپنا لہو جذب کرتی رہی۔حالیہ دور میں جب ہندوستان نے اپنے مذموم مقاصد کے ذریعے جموں کشمیر پر شب خون مارا اور سیاسی جماعتیں اور مقتدر طبقے اپنی سیاست کے گندے کاروبار میں کشمیر کی سواد بازی پر خاموشی اختیار کر چکی تھیں تو یہ اسلامی جمعیت طلبہ ہی ہے جو پانچ اگست کے سیاہ ترین دن سے لے کر آج تک حکمرانوں کے ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے سڑکوں پر نکلی رہی۔ ایل او سی مارچ ہو یا حق خودارادیت مہم ہو اسلامی جمعیت طلبہ اپنا فریضہ سر انجام دیتی رہی۔اور اس مہم کو
ابھی تکمیل باقی ہے ابھی کشمیر باقی ہے
اب تک جاری رکھے ہوے ہے،گویا اسلامی جمعیت طلبہ
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے جو واجب بھی نہ تھے
کے مصداق رہی ہے۔آج پوری دنیا میں جب اسلام اور اسلام کے نام لیواؤں پر تیر الزام اور سنگ دشنام ساری سمتوں سے برس رہے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ جنہیں آگے بڑھ کر حق و صداقت کا علم تھامنا تھا یا تو انہیں دنیا سے گم کر دیا گیا یا عقوبت خانوں میں وہ گمنامی پر مجبور ہوئے اور دنیا میں جا بجا تختہ دار انکا مقدر بنے۔اور بہت بڑی تعداد میں قال اللہ و قال الرسول کے ورد کرنے والے اسلام کو معذرت خواہانہ انداز میں پیش کرنے لگے دنیا کے سامنے ضعف اور کمزوری کا نشان بنے۔لیکن یہ نہتے فدایان محمد، قوت اور شان کے ساتھ غیر معذرت خواہانہ انداز میں جا بجا اسلام کا پیغام پہچاتے رہے، ہم نے دیکھا کہ یہ جانثاران مصر میں حسن البنا کے ریت کو زندہ رکھتے ہوئے اظہار حق سے منہ نہ موڑتے ہوئے اور کفر کی آنکھوں میں آ آنکھیں ڈالتے ہوئے بے شمار کئی ناموں سمیت محمد مرسی تک تختہ دار کو چوم کر مسکراتے ہوئے گلے لگاتے رہے۔بنگال کی سرزمین بھی تا قیامت گواہ رہے گی، اور جب ہم مطیع الرحمان، عبدالقادر ملا جیسے اسلام کے سپوتوں کا تذکرہ سنتے ہیں تو عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ایسا نہیں ہوا کہ دنیا بھر میں وہ لوگ جو سید مودودی کی فکر سے تیار کردہ تھے ظلم و تشدد اور طعنہ و تشنیع سے خوف کھا کر خود سپردگی اختیار کر گئے بلکہ یہ ظلم و ستم انہیں اور مضبوط کرتے گئے۔امام حسن البنا نے کہا تھا کہ جب عقوبت خانے تمھارے لئے تیار ہوں اور تختہ دار تمھارا مقدر بن جائیں تو یاد رکھنا کہ تمھاری تحریک جڑ پکڑنا شروع ہو گئی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ کے پرعزم کارکنان آج بھی تجدید عہد کرتے ہیں کہ ملک پاکستان کی بقا اور سلامتی اور اس وطن عزیز کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور جموں کشمیر کی مکمل آزادی کے لیے اپنی جدوجہد کو تیز سے تیز تر کریں گے اور
صبح آزادی اور صبح انقلاب تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

جمشید منیر سندھو

 

By | 2020-12-25T03:28:56+00:00 December 25th, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment