آخر ایک تنظیم سے اتنی والہانہ محبت عقیدت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ ماں کا درجہ رکھے عشق محبت کی مثالیں دے کر اُسکا تعارف کروایا جائے؟ سعد مقصود

اسلامی جمعیت طلبہ یہ نام شائد بہت سے لوگوں کے لیے محض ایک طلبہ تنظیم کا نام ہو مگر جمعیت سے وابستہ رہنے والا موجودہ یا سابق ہی اس نام سے اپنے تعلق کو محسوس کر سکتا ہے وہ تعلق جسے کوئی عشق کہتا کوئی محبت کوئی ماں سے تتشبیہ دیتا جو جیسا محسوس کرتا ویسا بیان کرتا ہے آخر ایک تنظیم سے اتنی والہانہ محبت عقیدت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ ماں کا درجہ رکھے عشق محبت کی مثالیں دے کر اُسکا تعارف کروایا جائے؟؟
یہ وہ ہی سمجھ سکتا ہے جو اس سے وابستہ ہو یا وابستہ رہا ہوں یہ محض ایک طلبہ کا گروہ نہیں یہ وہ فکری تحریک اور تنظیم ہے جو اُس خام مال کو جو جوانی میں جب نوجوان کو کسی سمت کا پتہ نہیں ہوتا اُسکا ہاتھ پکڑتی ہے اُسے بتاتی ہے یہ تمہاری سمت ہے اس پر چلو یہ وہ تنظیم ہے جو ایک کم گو ہر وقت ججھکنے والے کو زبان عطا کرتی ہے اُسے کہتی ہے بولو کہو کیا کہنا ہے کیسے کہنا ہے بتاتی ہے اور پھر وہ کم گو جو کسی کے سامنے بات کرتے شرماتا تھا مجمع کے سامنے بات کرتا ہے دعوت دین کو بیان کرتا ہے یہ وہ تنظیم ہے جو پریشان مسائل میں الجھے تعلیمی الجھنوں کا شکار طالب علم کو کرئیر کونسلنگ کے ذریعے بہت کچھ بتا سکھا دیتی ہے یہ وہ تنظیم ہے جو خیبر کے رہنے والے کو کراچی کے رہنے والے کو لاہور کے رہنے والے کو زبان رنگ نسل سے آزاد کر کے بتاتی ہے تم بھائی ہو تحریکی دوست ہو اور پھر یہ محض بات نہیں ہوتی حقیقت میں اس تنظیم سے وابستہ فرد اپنے سگے رشتہ دار یا بھائی سے زیادہ اپنے اُس بھائی سے محبت کرتا ہے اُسکے لیے ایثار قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے جس سے محض تعلق اللہ کی رضا کی خاطر ہوتا ہے یہ وہ تنظیم ہے جو نوجوان کو تراش کر ہیرا بناتی ہے اور پھر عملی میدان میں ایک بہترین نوجوان بنا کر بھیج دیتی ہے

ہم جیسے سینکڑوں نہیں ہزراوں نہیں لاکھوں ایسے نوجوان ہیں جن پر اس تنظیم کے بے تحاشہ احسانات ہیں اس نے ہمیں شناخت دی ہمیں بہترین بھائی اور دوستیاں عطا کیں ہمیں اللہ کے لیے محبت کرنا سکھایا اور سب سے بڑھ کر زندگی کا مقصد بتایا تو پھر کیوں نا ہم اسے ماں کی محبت سے تشبیہ دیں پھر آخر کیوں ہم اسے اپنا عشق نا کہیں ۔۔۔۔۔
اللہ میر جمعیت کو ہمشہ سلامت رکھے اس کے سکھائے بتائے راستے پر ہمشہ چلنے کی توفیق دے آمین

By | 2020-12-23T02:13:22+00:00 December 23rd, 2020|articles|0 Comments

Leave A Comment